لکھنؤ:
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا کو بے لگا گھوڑا قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے آئی ٹی اور سوشل میڈیا سیل کے عہدیداروں سے کہاکہ میڈیا کے اس فارم کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹریننگ کی ضرورت ہے ۔ سی ایم یوگی نے یہ بات پردیش بی جے پی کی آئی ٹی سیل اور سوشل میڈیا کی ورک شاپ کو خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے پارٹی کارکنان کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ محتاط نہیں ہوئے تو میڈیا ٹرائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ مجھے ایک اینالسٹ نے دکھایا کہ کس طرح سے ایک مقامی ایشو دوسرے ممالک میں بحث کا موضوع بن گیا ۔وہاں اترپردیش سے اسے جوڑ کر بتایا جا رہا تھا، جبکہ سچائی یہ تھی کہ اس کا پردیش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پیگاسس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نےکہاکہ سوشل میڈیا پر جواب دینے کے لیے کسی مہرت کاانتظار کئے بغیر جواب دینے کے لیے تیار ہو جائے۔ بھارت میں میڈیا کے بدلتے فارم پر بات کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاکہ پہلے وقت میں پرنٹ اور ٹی وی میڈیا کے مالک اور ایڈیٹر ہوا کرتے تھے ، لیکن اب ایسا نہیں ہے، سوشل میڈیا کا کوئی مائی با پ نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں کچھ لوگ ہوتے تھے جن کا کنٹرول ہوا کرتا تھا، لیکن سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ اگر آپ محتاط اور تیار نہیں رہتے ہیں تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کب میڈیا ٹرائل کا موضوع بن جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس لئے اس بے لگام گھوڑے کو کنٹرول کرنے کے لیےہمارے پاس اس طرح کی ٹریننگ اور اس طرح کی تیاری کی بہت ضرورت ہے ۔
سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کو چھوتے ہوئے سی ایم یوگی نے اس کا موثر استعمال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ زندگی میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ایودھیا مندر تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک پرامن حل تلاش کیا گیا ، اگر بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز اور ریاست کی طاقت پر قابض نہ ہوتی تو کیا اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنا ممکن تھا۔
کووڈ کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تنقید پر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ہماری پارٹی کے کچھ لوگ اپوزیشن کی تنقید سے متاثر ہوئے اور وہ کینڈل لے کر سڑکوں پر دکھائی دینے لگے تھے ۔











