لکھنؤ:
اترپردیش اسمبلی انتخابات کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا ہے ویسےویسے سیاسی پارٹیاں اور لیڈروں کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ بولنے اور الزام تراشیوں کا دور تیز ہو تاجا رہاہے ۔ اس سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اترپردیش کی بی جے پی سرکار کی تنقید کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ اسمبلی انتخاب کے بعد سماج وادی پارٹی اور اتحادی پارٹی مہان دل کی سرکار بنے گی۔’ مہان دل نے ٹھانا ہے ، سپا کی سرکار بنانا ہے ‘ کے نعروں کے درمیان اکھلیش یادو نے اتوار کو لکھنؤ واقع پارٹی دفتر میں مہان دل کے کارکنان کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا۔
انہوں نے کہاکہ جو نعرہ آپ نے دیا ہے، اسے کئی پروگرام میں سناگیا ہے، کاس گنج کی تاریخی اجلاس میں آپ کی پارٹی کی ٹوپی اور آپ کا جھنڈا لہراتا دکھا رہا تھا اور ہم لوگ کسانوں کی حمایت میں کھڑے تھے، جو نعرہ وہاں شروع ہوا تھا وہ لکھنؤ کے قریب آگیا ہے ۔
بتادیں کہ کاس گنج میں اسی سال مارچ مہینے میں تین زرعی قوانین کے خلاف مہان دل اور سماج وادی پارٹی نے ایک مہاپنچایت منعقد کی تھی۔ اسی دن اکھلیش یادو نے اشارہ دیا تھا کہ ایس پی اور مہان دل مل کر آئندہ اسمبلی انتخاب لڑیں گے ۔اکھلیش نے کہاکہ ابھی تک تو میں 350 پر جیت کی بات کررہا تھا لیکن مہان دل سے اتحاد ہونے کے بعد 400 سیٹ پر جیت پکی ہوگئی ہے ۔ ایس پی کے قومی صدر نے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو نقلی کیشو بتاتے ہوئے کہاکہ اصلی کیشو تو مہان دل کے صدر کیشو دیو موریہ ہیں، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے لوگ ذات کے حساب سے مردم شماری نہیں کرانا چاہتے اور ہمارے اور آپ کے درمیان لڑائی چاہتے ہیں لیکن اگر ایس پی حکومت بنی ہے تو مردم شماری ہوگی۔
ا نہوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کستے ہوئے کہاکہ کیا آپ کو لگتاہے کہ وہ یوگی ہے، سوچئے کہ ان کی زبان کیا ہے، انہوں نے نیتا جی کے بارے میں کیا کہا،ویسے ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑیں گے لیکن اصلی لڑائی یہ ہے کہ کیا اترپردیش خوش حالی کے راستے پر جائے گا یا نہیں، کیونکہ انہوں نے (یوگی ) ترقی روک دی ہے اور ان کی ترقی صرف اشتہارات میں نظر آتی ہے ۔











