نئی دہلی:
اتوار کو جہاں اوکھلا میں مسلم رہنما مدتوں بعد ساتھ بیٹھ کر آپسی اختلاف کی آنچ کم کرنے اور برادران وطن سے خوشگوار تعلقات کے بارے میں گفت و شنید کررہے تھے وہاں سے چند کلو میٹر دور اور پارلیمنٹ سے قریب ایک مقام پر عام آدمی پارٹی کے سابق لیڈر اور اب بی جے پی لیڈر سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے کی قیادت میں ایک ہجوم مسلمانوں کو سبق سکھانے انہیں تہ تیغ کرنے اور خاک میں ملا دینے کے نعرے لگا رہا تھا۔
ایسے وقت میں جب لوگوں کو کورونا انفیکشن کی وجہ سے سیاسی پروگرام اور جلسے کرنے کی اجازت نہیں ہے ، دہلی میں پارلیمنٹ سے چند کلومیٹر دور ، دن کی روشنی میں ایک ریلی نکالی گئی ، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور جس میں مسلمانوں کے خلاف کئی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔یہ ایسے وقت میں ہوا جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس چل رہا ہے ۔
دہلی پولیس ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے، جنہوں نے اتوار کو جنتر منتر پر ایک ریلی میں مسلمان مخالف نعرے لگائے ۔ اس میں دفعہ153-Aکےتحت مختلف برادریوں کے درمیان دشمنی پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ ریلی کا انعقاد سپریم کورٹ کے وکیل اور دہلی بی جے پی کے سابق ترجمان اشونی اپادھیائے نے کیا تھا۔
دہلی بی جے پی کے سابق ترجمان اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے ’نوآبادیاتی قوانین کے خلاف ‘ یہ ریلی کاانعقاد کیا تھا ، اس میں یکساں سول کوڈ کی حمایت کی گئی ہے ۔
لیکن اس ریلی میں مسلمانوں کے خلاف باتیں کہی گئیں۔ کچھ ویڈیوز میں یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ انتہائی اشتعال انگیز اور بھڑکاؤ نعرے لگائے گئے ، جس میں مسلمانوں کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا۔ اس ریلی میں تقریباً پانچ ہزار لوگ موجود تھے۔
اشونی اپادھیائے نے اس کے لیے پہلے ہی اجازت مانگی تھی ، انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔
انٹیلی جنس ونگ کے ایک سینئر افسر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اسپیشل برانچ نے نئی دہلی ڈسٹرکٹ پولیس کواس ریلی کے امکان کےبارے میں پہلی ہی بتا دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہو سکتے ہیں ۔ لہٰذا دہلی پولیس اس ریلی کے کے انعقاد سے پلا نہیں چھاڑ سکتی اوریہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے اس کی جانکاری نہیں تھی ۔
اس معاملہ پر ہنگامہ ہونے کے بعد کنوینر نے خود کو اس سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اپادھیائے نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ جس وقت یہ اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے وہ اس جگہ سے جا چکے تھے ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ لوگوںنے انہیں بدنام کرنے کے لیے ایسا کیا ہے ۔
’بھارت جوڑ و ‘تحریک کی میڈیا انچارج شرپیا سریواستونے ’ انڈین ایکسپریس‘ سے کہاکہ ’برٹش دور کے کئی قوانین ابھی بھی موجود ہیں، جن کے بل پر ہندوستانیوں کو دبایا جاتاہے ۔ ہم اس کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ریلی یکساں سول کوڈ کے حق میں تھی کیونکہ ہماری یہ مانگ ہے کہ ہر ہندوستانی کے لیے یکساں قانون ہو، لیکن وہ کسی طرح کے اشتعال انگیز نعرے بازی سے انکار کرتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میری جانکاری میں کوئی اشتعال انگیز نعرہ نہیں لگایا گیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ پانچ چھ لوگوں نے ایسا کیا ہو ۔
وہیں رپورٹر انمول پریتم نے الزام لگایا ہے کہ جنتر منتر پر موجود بھیڑ نے ان سے دھکامکی کی اور انہیں ’جے شری رام ‘ کا نعرے لگانے کو کہا۔ پریتم نے کہاکہ وہ یہ نعرہ تب لگائیں گے جب انہیں ایسا کرنے کا من کرے گا ، کوئی انہیں اس کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ وہ مصنف ششی تھرور نے اس پورے معاملے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ،انہوں نے کہا :’ یہ کتنا قابل اعتراض ہے کہ بی جے پی کے ایک غیر قانونی مظاہرے میں فرقہ وارانہ نعرے لگائے گئے اور نفرت پھیلانے والی باتیں کہی گئیں۔‘











