نئی دہلی :
فوجداری مقدمات کا سامنا کررہے لیڈروں کو متاثر کرنے والے ایک اہم حکم میں سپریم کورٹ منگل کو ریاستی پراسیکیوٹرز کے اختیارات کو کم کردیا اور کہاکہ وہ قانون سازوں کےخلاف کوڈ آف کریمنل پروسیجر ( سی آر پی سی ) کے تحت درج مقدمات کو ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر واپس نہیں لیا جاسکتے۔
ہند ی پورٹل ’جن ستا ‘کی رپورٹ کے چیف جسٹس این وی رمن جسٹس ونیت سرن اور سوریہ کانت کی بنچ نے مرکز ی سرکار اور مرکزی خفیہ ایجنسی (سی بی آئی ) جیسی ایجنسیوں کی جانب سے اسٹیٹس رپورٹس داخل نہ کرنے پر برہمی کااظہار کیا اور اشارہ دیاکہ سیاستدانوں کے خلاف درج معاملے کی نگرانی کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی بنچ قائم کی جائے گی ۔
بتادیں کہ عدالت کی مدد کے لیے مقرر ’انصاف دوست ‘ سینئر ایڈووکیٹ وجے ہنسریا نے ان میڈیا رپورٹس کا ذکر کیا ، جن میں کہا گیا تھاکہ اترپردیش ،اتراکھنڈ ،مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی ریاستوں نے سی آر پی سی کی دفعہ 321 کے استعمال سے لیڈروں کے خلاف جرائم کے معاملوں کو واپس لینے کی ایپل کی گئی ۔ اس لحاظ سے سپریم کورٹ کا حکم کافی اہم ہے ۔ اس کے علاوہ سرکار تقریباً 40 رہنماؤں، کارکنان کے اوپر درج کیسز کو واپس لینے کی منظوری بھی دے چکی ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ سیکشن استغاثہ کو مقدمات واپس لینے کا اختیار دیتا ہے۔ انصاف دوست کی رپورٹ میں کہا گیا تھا ’ اترپردیش سرکار سنگیت سوم، (میرٹھ کے سردھنا سے ایم ایل اے) سریش رانا ( تھانہ بھون سے ایم ایل اے) ،کپل دیو (مظفر نگر صدر سے ایم ایل اے،جہاں فساد ہوئے تھے)اور لیڈر سادھوی پراچی کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی درخواست کررہی ہے ۔
انصاف دوست کی رپورٹ میں دیگر ریاستوں میں معاملے واپس لینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ بنچ نے ’ پہلا مدعہ معاملے واپس لینے کے لیے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 321 کے غلط استعمال کا ہے ۔ ہمیں یہ حکم دینا مناسب لگ رہا ہے کہ ممبر پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کے خلاف درج کوئی بھی مقدمہ ہائی کورٹ سے اجازت لئے بغیر واپس نہیں لیا جا سکتا۔
بنچ نے کہاکہ ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ اس عدالت کے ذریعہ مقرر ضابطہ اصول کی روشنی میں 16 ستمبر 2020 سے مقدمہ چاہہ وہ ملتوی ہو یا نمٹایا گیا ہو ، کہ جانچ کریں۔ ایک دیگر حکم میں عدالت نے کہاکہ رکن پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف معاملے کی سماعت کررہے خصوصی عدالتوں کے ججوں کا اگلے حکم تک نرانسفر نہیں کیا جائے گا، حالانکہ مذکورہ ججوں کی ریٹائرمنٹ اور موت جیسے معاملے میں حکم لاگو نہیں ہوگا۔
عدالت عظمی نے کہا کہ زیر التوا مقدمات کا تیزی سے تصفیہ یقینی کرنے کے لیے خصوصی عدالتوں یا سی بی آئی عدالتوں کی صدافت کرنے والے افسران کو حکم دینا ضروری ہے ۔ جس میں رکن پارلیمنٹ یا ایم ایل اے کے خلاف مقدمہ چلانے والے افسر اگلے حکم تک اپنی موجودہ پوزیشن پر بنے رہیں ۔
بنچ نے کہا کہ سوائے عدالتی افسران کے تبادلے کے ، یہ ہدایت ان کی ریٹائرمنٹ یا موت سے مشروط ہوگی۔ اگر مزید کوئی ضرورت یا ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ، ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرل ان افسران کو ریلیف دینے کے لیے ہمارے سامنے درخواست دینے کے لیے آزاد ہیں۔
شروعات میں بنچ نے رپورٹ کے لیک ہونے پر مایوسی کااظہار کیا اور کہاکہ ہم ان رپورٹس کو اخبارات میں پڑھ رہے ، وہ ہمیں کچھ نہیں بھیجتے۔ شام کو سب کچھ ملتا ہے۔ بنچ نے عدم تعمیل ظاہر کرنے کے لیے سابقہ حکم کا ذکر کیا اور کہاکہ ہم نے کئی بار اپنی ناراضگی ظاہر کرچکے ہیں۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ آپ کی طرف سے کچھ نہیں ہو رہاہے ۔ بنچ نے کہاکہ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب معاملہ شروع ہوا تھا ،ہمیں یقین تھا کہ سرکار ان معاملوں کے تصفیہ کے بارےمیں فکر مند ہے۔ لیکن آپ کی طرف سے کچھ نہیں ہوا۔
لاء آفیسر نے کہا کہ حکومت مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے پرعزم ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ مقدمات کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی بنچ تشکیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فوراً تصفیہ یقینی کیاجاسکے۔











