رام پور: ( احتشام الحق آفاقی)
مقامی امیر جماعت اسلامی مولانا عبدالخالق ندوی نے ڈونگر پور کے واحد نگر کی مسجدانوار میں بعد نماز مغرب خطاب کے دوران فرمایا کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی دین اسلام ہے اور کائنات کے سارے انسانوں کی کامیابی صرف اور صرف اسلام میں ہے۔ دین اسلام ایک عظیم نعمت ہے اور جو یہ نعمت چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اپنائے گا اسے دونوں جہاں میں سزا بھگتنی پڑے گی۔ کیونکہ یہی وہ نعمت ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
مولانا نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمیں اس نعمت کی قدر اور عظمت کا احساس نہیں ہے اور کتنی ہی ہماری بہنیں اور بھائی ایسے ہیں جو ارتداد کا شکار ہو رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری، عملی اور ذہنی ارتداد کی لہروں نے امت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لیکن ہمیں مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہاکہ اس وقت مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے معاملات اپنے عروج پر ہیں اور یہ واقعات اتفاقی نہیں، بلکہ منظم منصوبہ بندی اور پوری تیاری اور سازش کے تحت مسلمان لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ جسکے پیچھے کئی فرقہ پرست تنظیمیں کام کررہی ہیں، غیر مسلم لڑکوں کو مسلمان لڑکیوں کو رجھانے، قریب کرنے اور پھر ان کا جنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائل، لیپ ٹاپ، گاڑیاں وغیرہ دی جارہی ہیں اور باضابطہ ان کی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔
مولانا نے فرمایا کہ لو جہاد نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے، البتہ یہ شوشہ صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں انتقامی جذبہ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو لوجہادمیں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ مولانا عبد الخالق نے کہا کہ ارتداد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کا اختلاط ہورہا ہے، مخلوط تعلیم کی وجہ سے بے حیائی اور بے پردگی عام ہورہی ہے، بے جا رسومات کی وجہ سے شادی بیاہ مہنگے ہورہے ہیں۔
مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کے اس طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد بالخصوص علماء و دانشوران اور مذہبی و ملی تنظیموں کو میدان میں آنا ہوگا اور مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ جامعۃ الصالحات کے شیخ الحدیث کا کہنا تھا کہ ارتداد کے سد باب کیلئے ہمیں اپنے اندر دینی غیرت و حمیت پیدا کرنی ہوگی، مسجد کے منبر و محراب سے اس موضوع پر دوٹوک گفتگو ہونی چاہیے، مستورات کے اجتماعات منعقد کرنا چاہئیں، اسکول اور کالجز میں پڑھنے والے بچوں سے بات کرنی چاہیے۔ انہیں بتانا چاہئے کہ دونوں جہاں کی کامیابی صرف دین و اسلام میں ہے، اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے، اپنے نونہالوں کے دلوں پر عقیدہ توحید و رسالت کو نقش کرنا چاہیے، ساتھ ہی ہمیں سماجی بیداری پیدا کرنی چاہیے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بیداری پیدا کرنی چاہیے۔
مولانا نے کہا کہ والدین کو خاص طور پر اپنے بچوں کی موبائل ایکٹوٹی پر نظر رکھنا چاہیے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسلم نوجوان علانیہ ارتداد کا شکار ہورہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے عصری اداروں میں زیر تعلیم نوجوان فکری ارتداد میں مبتلا ہیں۔ وہ بظاہر مسلمان ہیں مگر غیر شعوری طور پر ان کے دلوں سے ایمان نکل چکا ہے۔ وہ اپنے دین و مذہب کے متعلق شکوک کا شکار ہیں۔ ہمیں پہلے اس فکری ارتداد کو ختم کرنا ہوگا۔ مولانا نے کہاکہ مسلم لڑکے لڑکیوں میں بڑھتے ارتداد کی وجہ بے دینی، مخلوط تعلیم، بے پردگی، شادی بیاہ میں بے جا رسوم و رواج اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ اور ناجائز استعمال ہیں۔









