لکھنؤ :
یوپی اسمبلی میںمنگل کے روز زوردار ہنگامہ ہوا۔ دراصل سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے قانون ساز کونسل میں ایس پی کے بانی ملائم سنگھ یادو پر طنز کسا۔ انہوں نے کورونا ٹیکہ لگوائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’ ابا جان ‘ لفظ کا استعمال کیا۔ اس پر ایس پی ممبران نے زور دار ہنگامہ کیا۔
ویکسین لینے سے انکار کرنے والے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کون لوگ تھے جو کہتے تھے کہ ہم ٹیکہ نہیں لگوائیں گے ۔ وہ کون چہرے تھے جو کہتے تھے کہ یہ تو مودی ٹیکہ ہے۔ یہ بی جے پی کاٹیکہ ہے اسے ہم نہیں لگوائیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب سے بڑی بدقسمتی ہے اور گھناؤنا جرم ہے ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ٹیکوں کی عدم دستیابی کے سبب اپنی جان گنوائی ہے ، یہ ان کے مجرم ہیں۔ ان مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔ جنہوں نے ٹیکہ کاری کی مخالفت کی تھی۔ جب ابا جان ٹیکہ لگواتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی لگوائیں گے ۔
ایس پی ممبر اسمبلی نے اعتراض کیا تو چیئرمین کنور منویندر سنگھ نے انہیں بیٹھنے کو کہا، لیکن سماج وادی پارٹی کے ممبران نے زوردار نعرے لگاتے رہے۔ وہ ایک مرتبہ ایوان کے بیچ میںآگئے۔ یوگی نے کہاکہ ابھی میں نے کسی کا نام ہی نہیں لیا ہے ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ابا جان کب سے غیرپارلیمانی لفط ہو گیا۔ ایس پی کو مسلم ووٹ تو چاہئے مگر ابا جان لفظ سے پرہیز ہے۔
قائد حزب اختلاف احمد حسن نے اس مسئلہ پر کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان انتہائی غیر مہذب اور تکلیف دہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر ایک کے ووٹ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ جس طرح دھمکیاں دے رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایوان میں محدود زبان کااستعمال ہوناچاہئے۔
غور طلب ہے کہ ’ ابا جان ‘ لفظ کو لے کر گزشتہ دنوں سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے ۔ اکھلیش نے خود کو بی جے پی کے لیڈروں سے بڑا ہندو بتایا تھا ۔ اس پر یوگی نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکھلیش کے اباجان (ملائم سنگھ یادو) کہتے تھے کہ ایودھیا میں پرندے کو بھی پر نہیں مارنے دیں گے لیکن اب وہاں رام مندر کی تعمیر شروع ہو گئی ہے ۔









