نئی دہلی:(ایجنسی)
اکالی دل اور طالبان کے ترجمانوں نے بدھ کی دیر رات کابل گرودوارہ کے سربراہ کے ذریعہ جاری ایک ویڈیو بیان کو شیئر کیا ہے ۔ اس ویڈیو بیان کے مطابق ’افغانستان میں پھنسے سکھوں اور ہندوؤں کو ان کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ڈر یا فکرمحسوس نہ کریں۔‘ یہ ویڈیو الجزیرہ کی ایک نیوز رپورٹ کا حصہ لگتا ہے ، جسے افغانستان کے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ترجمان ایم نعیم نے ٹویٹ کیا تھا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اسے اکالی دل کے دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر منجیندر سنگھ سرسا نے بھی ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہاکہ وہ کابل گرودوارہ کے ساتھ مسلسل رابطہ میں تھے اور طالبانی لیڈروں نے ’ ہندوؤں اور سکھوں سے ملاقات کرکے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
اس 76 سیکنڈ کی ویڈیو میں کچھ مرد جس میں سے کچھ کو طالبان کا ممبر مانا جا رہاہے ، گرودوارہ کےاندر جاتے اور اندر پناہ لئےہوئے سکھوں سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ویڈیو میں گرودوارہ کمیٹی کے صدر کا ایک بیان (پشتومیں) بھی ہے۔
سرسا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ، ‘میں کابل میں گرودوارہ کمیٹی کے صدر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں … گرونام سنگھ اور سنگت … گرودوارہ کرتے پروان صاحب میں پناہ لے رکھی ہے ، آج بھی طالبان لیڈر آئے .. ہندوؤں اور سکھوں سے ملاقات کی اور انہیں تحفظ فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
ڈاکٹر ایم نعیم نے بھی بالکل یہی ویڈیو شیئر کیا اور عربی میں ٹویٹ کیا۔ اس ٹویٹ کاایک عام فہم مطلب اس طرح ہے۔ کابل میں سکھوں اور ہندوستانیوں کی زندگی ، ان کے مندروں کے سرابرہ کہتے ہیں ہم محفوظ ہیں۔ ڈر یا فکر محسوس نہ کریں۔ اس سے پہلے لوگ ڈرتے اور فکر مند تھے۔ ان کی جان ومال کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ ہمیں یقین ہے ۔
افغانستان میں تقریباً 20 سالوں بعد طالبان کی اقتدار میں واپسی ہوئی ہے ، جس نے انسانی بحران پیدا کردیا ہے اور اسے بڑھا دیا ہے ۔ یہاں بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے مئی میں اپنے فوجی کو واپس بلایا لیا۔









