نئی دہلی:
وزیر اعظم نریندر مودی کے کابینہ کی بدھ کے روز توسیع ہوگئی ہے۔ سال 2019 میں وزیر اعظم مودی کے دوسری بار عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار ہوئے اس ردوبدل میں 43 لیڈروں کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ وزرا ءکی حلف برداری تقریب کے بعد وزارت کی تقسیم بھی ہوگئی ہے۔ نئی کابینہ میں 30 کابینی وزراء، 45 وزیر مملکت جبکہ دو وزیر مملکت آزادانہ چارج کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم مودی خود وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا کام دیکھیں گے۔ وہیں امت شاہ کو وزیر داخلہ کے ساتھ ساتھ منسٹری آف کو آپریشن کا بھی چارج دیا گیا ہے۔ اسمرتی ایرانی کو وزارت برائے خواتین واطفال کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
پیوش گوئل کو ٹیکسٹائل اور فوڈ اور کنزیومر افیئرس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہیں رمیش پوکھریال نشنک کی جگہ دھرمیندر پردھان کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے۔ وہیں منسکھ مانڈویا کو صحت اور کیمکل فرٹیلائزر منسٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ شہری ہوا بازی وزیر کے طور پر کام کر رہے ہردیپ سنگھ پوری کو وزارت شہری اور شہری ترقیات کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کا چارج دیا گیا ہے۔ انوراگ ٹھاکر کو وزارت نشریات واطلاعات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وہیں جیوتی رادتیہ سندھیا کو شہری ہوا بازی کا وزیر بنایا گیا ہے۔ اشونی وشنو کو ریلوے اور آئی ٹی اور وزارت مواصلات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ گری راج سنگھ کو وزارت دیہی ترقیات اور پشوپتی کمار پارس کو فوڈ پرویسیسنگ منسٹری کا ذمہ سونپا گیا ہے۔
آسام کے سابق وزیر اعلیٰ سروا نند سونے وال کو بندر گاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت اور وزارت آیوش کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بھوپیندر یادو کو وزارت محنت و ماحولیات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہیں کرن رجیجو کو وزارت قانون کے ساتھ ساتھ وزارت ثقافت اور سیاحت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پروشوتم روپالا کو ڈیری اور وزارت فشریز ڈیولپمنٹ کا چارج دیا گیا ہے۔ میناکشی لیکھی کو وزیر مملکت برائے خارجہ امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نارائن رانے کو مائیکرو، چھوٹے اور متوسط درجے کے اداروں کا وزیر بنایا گیا ہے۔









