سپریم کورٹ نے بہار میں ووٹر لسٹ ریویژن (SIR) کو لے کر الیکشن کمیشن کو بڑا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تصحیح کے لیے 11 دستاویزات میں آدھار کارڈ کو بھی شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی الیکشن افسر آج کے حکم کے بارے میں سیاسی جماعتوں کو مطلع کریں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے بہار ایس آئی آر کی ڈیڈ لائن کو فی الحال بڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر بھاری ردعمل آتا ہے تو ڈیڈ لائن بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
•• آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام جماعتوں کی بی ایل اے ان 65 لاکھ لوگوں کی فہرست تیار کرے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے لیے مانگے گئے 11 دستاویزات میں آدھار کارڈ شامل نہیں تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آدھار کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔
••سپریم کورٹ کا فیصلہ اور سخت تبصرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں نہ صرف سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں شامل کیا بلکہ انہیں فعال طور پر لوگوں کی مدد کرنے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت کے اہم تبصرے اور احکامات درج ذیل ہیں:
••سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری: سپریم کورٹ نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ بی ایل اے کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود بہت کم اعتراضات دائر کیے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ‘اگر سیاسی جماعتیں زیادہ ذمہ دار ہوتیں اور اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے پوری کرتیں تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔’آدھار کارڈ قبول کرنے کی ہدایات: درخواست گزاروں کے وکیل پرشانت بھوشن نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن آدھار کارڈ کے علاوہ دیگر دستاویزات پر زور دے رہا ہے۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ آدھار کارڈ کو ایک درست ثبوت کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور کسی اضافی دستاویز کی ضرورت نہیں ہے
••۔لوگوں کو آن لائن سہولت: عدالت نے دہرایا کہ لوگوں کو اپنا نام شامل کرنے یا درست کرنے کے لیے بہار آنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔دعوے اور اعتراضات: الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے 65 لاکھ لوگوں کی بوتھ وار فہرست ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ ان لوگوں کو تصحیح کے لیے درخواست دینا ہوگی یا فارم 6 بھر کر دعویٰ کرنا ہوگا۔
••الیکشن کمیشن اور درخواست گزاروں کے دلائل
الیکشن کمیشن کے وکیل راکیش دویدی نے عدالت کو بتایا کہ ہٹائے گئے 65 لاکھ ناموں میں سے 22 لاکھ مردہ اور 8 لاکھ ڈپلیکیٹ پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ خود سامنے آئیں تو ان کے دعوؤں کی تحقیقات کی جائیں گی۔دوسری طرف، درخواست گزاروں کی طرف سے وکیل پرشانت بھوشن اور ورندا گروور نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن زمینی سطح پر کام نہیں کر رہا ہے اور خود ہی مسائل پیدا کر رہا ہے۔ بھوشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی نے صرف آدھے حلقوں میں بی ایل اے کو تعینات کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے تمام 12 سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے سے آگاہ کریں اور عدالت میں پیش ہو کر سٹیٹس رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھے گی۔








