کابل :
امریکی فوجیوں کے افغانستان سے نکلنے کے فیصلے کے بعد طالبان کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ طالبان نے افغانستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور کابل سے صرف 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔طالبان کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان آج تک کے رپورٹر اشرف وانی کی کابل سے رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ افغان صدر اشرف غنی اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں ، تاہم ذرائع نےجانکاری دی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ غنی طویل عرصہ سے طالبان کےسامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے ہیں اور طالبانی جنگجوؤں کو بھاگنے کی پالیسی تیار کرتے رہے ہیں ۔ طالبان کی کئی مانگوں میں سے ایک مانگ اشرف غنی کو عہدہ سے ہٹائے جانے کی بھی رہی ہے ۔ وہیں پاکستان بھی اشرف غنی کے عہدہ سے ہٹائے جانے کی حمایت کررہاہے ۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہا ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے کئی بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی سرکاری افسران بھی طالبان کے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ طالبان نے اب افغان کے قندھار ، غزنی ، ہرات وغیرہ پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ کم از کم 12 صوبے اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔











