علی گڑھ:
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔ یونیورسٹی میں سولہویں موت کے بعد وائس چانسلر نے کووڈ پیٹرن کی جانچ کی مانگ کی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ یونیورسٹی اور اس کے گردونواح میں اس وائرس پیٹرن کی جانچ کی جائے۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل کوبھیجے گئے خط میں وائس چانسلر پروفیسر منصور نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اے ایم یو کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں خاص طور پر کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے اموات ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو میڈیکل کالج میں مائیکروبایولوجی لیباریٹری ، جو کہ کووڈ نامی ایک لیباریٹری ہے ، اس شہر میں پائے جانے والے پیٹرن کے وائرل جینوم تسلسل کا سراغ لگانے کے لئے انسٹی ٹیوٹ آف جینومک اینڈ اینٹی گریٹڈ بایولوجی لیباریٹری نئی دہلی کو نمونے بھیج رہا ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ یہ وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں موثر ہوگا۔ انہوں نے خط میں یہ بھی کہا کہ گزشتہ 18 دنوں میں کووڈ کی وجہ سے اے ایم یو کے 16 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ طب کے سربراہ پروفیسر شاداب خاں کا کورونا وائرس کی وجہ سے جمعہ کو موت ہوگئی۔ خان اے ایم یو کے 15 ویں اساتذہ تھے جن کی کورونا وائرس کے انفیکشن کے باعث موت ہوگئی ۔
اے ایم یو کے ایک عہدیدار نے پی ٹی آئی (بھاشا) کو بتایا کہ جواہر لال نہرو میڈیکل کالج فی الحال آکسیجن بحران سے دوچار ہے اور گزشتہ 12 دن سے مسلسل کوششوں کے باوجود اسپتال کو باہر سے آکسیجن کا ایک سلنڈر نہیں مل سکاہے۔








