وارانسی :
سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی ( ایس بی ایس پی ) کے قومی صدر اور اسدالدین اویسی کے ساتھ مل کر بھاگیداری سنکلپ مورچہ بنانے والے اوم پرکاش راج بھر نے بی جے پی کے ساتھ نزدیکیوں کی خبروں کی ایک بار پھر تردید کی ۔انہوں نے کہاکہ میں نے کب کہاکہ سیاست میں سب ممکن ہے ۔ میں تین سال سے کہہ رہا ہوں کہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر کروں گا ۔ بی جے پی کے ساتھ نزدیکیاں بڑھانے کی بحث پر اتنا ہی کہوں گا کہ راجا کو معلوم نہیں کہ مسہر ون بانٹ لئے ۔ نیوز 18 سے بات چیت میں اوم پرکاش راج بھر نے اپنے من کی بات شیئر کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اکھلیش یادو پسند ہیں۔
اپنی ترجیحی فہرست کوشمار کراتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ساتھ جانے کا موقع ملا تو پسندید ہ فہرست میں نمبر و ن پر ایس پی ، نمبر دو پر بی ایس پی اور نمبر تین پر کانگریس ہے ۔ اوم پرکاش راج بھر نے کہاکہ ہم بی جے پی کے دوست کبھی نہیں بن سکتے۔ پسماندہ ذاتوں کی ذات کے لحاظ سےمردم شمار کی بات کی، لیکن دو سال انتظار کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔ اب پچھلی مانگ کے ساتھ پسماندہ ذاتی کا سی ایم کا اعلان کریں ۔
فی الحال یوپی میں ڈپٹی سی ایم پسماندہ ذات سے ہے کہ سوال پر راج بھر نے کہاکہ ڈپٹی سی ایم لیڈر ہے مالک نہیں۔ گاؤں میں کہاوت ہے کہ اوپ یعنی چپ۔ پورے ملک میں تحریک کے بعد نیٹ میں ریزرویشن مجبوری میں بی جے پی نے لاگو کیا۔ کورٹ کے حکم پر عمل کیا ہے، انہوں نے اپنی مرضی سے لاگو نہیں کیا۔ برہم ووٹوں کی سیاست پر راج بھر نے بی جے پی پر حملہ بولا ۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کیا برہمن کا ٹھیکہ لئے ہے کہ ان کی پارٹی میں رہے گا ۔ برہمن ایس پی ، بی ایس پی ،کانگریس اور ہمارے ساتھ بھی ہے ۔ راج بھر نے ہندو تو کے مدعے پر بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہاکہ دہلی سے لے کر یوپی تک بی جے پی کی حکومت ہے تو پھر ہندوتو خطرے میں کیوں ہیں؟ کیوں نہیں آپ سکیورٹی لگادیتے۔ کانگریس کی بربادی کی وجہ گاؤں چھوڑ کر دہلی کی سیاست کرنا تھا، اگر پرینکا گاؤں -گاؤں جائیں گی تو پارٹی مضبوط ہوگی۔











