نئی دہلی :(ایجنسی)
مدر ٹریسا کے ذریعہ کولکاتا میں قائم ایک باوقار تنظیم مشنریز آف چیریٹی (ایم او سی) کو غیر ملکی فنڈنگ نہیں مل پائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت ہند نے 25 دسمبر کرسمس کے دن ’مخالف ان پٹ‘ کی بنیاد پر فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آراے) کے تحت اس این جی او کی رجسٹریشن کی تجدید سے انکار کر دیا۔
حالیہ مہینوں میں ہندوستان بھر میں عیسائیوں، گرجا گھروں اور عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان ناقدین نے حکومت کی اس کارروائی کی ٹائمنگ پر سوال اٹھایا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، جو پہلے ہی نمایاں طور پر اقلیتوں پر حملوں کی کوریج کر رہا ہے، نے بھی مشنری آف چیریٹی کے خلاف حکومت کے کریک ڈاؤن کی خبریں شائع کیں۔
’عیسائی مخالف لہر کے درمیان لائسنس کی درخواست خارج ‘: دی گارڈجین
دی گارڈجین نے 28 دسمبر کو مضمون شائع کیا جس کی سرخی تھی ’ہندوستان نے مدر ٹریسا چیریٹی کو بیرون ملک سے فنڈز حاصل کرنے پر پابندی لگا دی‘ اور لکھا،’’بھارت میں عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے درمیان ‘‘ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانےکے لیے پولیس کی تفتیش کا سامنا کرنے کے چند دن بعد، حکومت ہند نے مدر ٹریسا کے خیراتی ادارے کو بیرون ملک سے فنڈز حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔
گجرات میں اس این جی او کے خلاف مذہب تبدیل کرنے کے الزامات کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مضمون میں لکھا گیا کہ، ’’مسیحی پادریوں پر حملے کیے گئے ہیں اور حالیہ مہینوں میں چرچ کی خدمات کو پُرتشدد طور پر متاثر کیا گیا ہے کیونکہ عیسائی مخالف جنون میں اضافہ ہوا ہے۔ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے خلاف حملوں کا ایک غیر معمولی دور تھا، جس میں عیسیٰ مسیح کے مجسمے کو بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔
’’عیسائی مخالف لوگ گاؤں میں گھوم رہے ہیں، گرجا گھروں پرحملے کررہےہیں‘‘: نیویارک ٹائمس
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے 28 دسمبر کو’’India Cuts Off Foreingn Funding of Mother Tersa’s Charity‘‘ہیڈ لائن سے اس خبرکو جگہ دی ہے۔ آرٹیکل میں قارئین کوبتایا گیاکہ ’’ بھارتنے مدرٹریسا کےذریعہ قائم ایک چیریٹی کو اس کے انسانی کاموں کے لیے غیر ملکی عطیات لینے سے روک دیا ہے۔‘‘
’’ بھارت کی آبادی میں تقریباً 2 فیصد حصہ داری رکھنےوالے عیسائیوں پر حملوںمیں اضافہ ایک وسیع تبدیلی کا حصہ رہاہے جس میں مذہبی اقلیتیں خودکو کم محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ عیسائی مخالف لوگ گاؤں میں گھو م رہے ہیں، گرجا گھروںمیں حملہ کررہےہیں ،عیسائی صحیفہ جلا رہے ہیں ، اسکولوںپر حملہ کررہے ہیں اورپادریوں پر حملہ کررہے ہیں ۔
نیویارک ٹائمز نے اپنے قارئین کو ہری دوار ’’دھرم سنسد‘‘ کی مسلم مخالف تقاریر اور نعروں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
’’گزشتہ ہفتے ایک سمیلن میںسیکڑوں دائیں بازو ہندو سنتوں نے کھلے عام مسلمانوں کو قتل کرنے کا کال کیا ، جو کہ آئینی طور پر ایک سیکولر جمہوریہ ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
دی واشنگٹن پوسٹ
’’ Indian Authorities fo Block Foreign Funding for Mother Teresa’s Charity‘‘آرٹیکل میں رپورٹ کرتےہوئے دی واشنگٹن پوسٹ نے کہاکہ ’’یہ فیصلہ اس وقت آیا، جسے کچھ عیسائی رہنما ہندو اکثریتی ملک میں اپنے دھرم کےلیے تیزی مخالفانہ ماحول کو قرار دیتےہیں ، جو اب وزیر اعظم نریندرمودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتہے، جس کی ہندو راشٹریہ وادی جڑیں ہیں۔ ‘‘
رپورٹ میں، نیشنل کرسچن کونسل کے ماڈریٹر بشپ ایم جگجیون نے کہا کہ جو کبھی غیر ملکی فنڈنگ کی باقاعدہ منظوری تھی، اب اسے مسترد کیا جا رہا ہے اور چرچ کے زیر انتظام یتیم خانے سمیت اداروں کو بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔









