سری نگر:(ایجنسی)
— دہلی کے جے سی پبلی کیشنز کی طرف سے کلاس VII کی تاریخ اور شہریات کی نصابی کتاب میں پیغمبر اسلام آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قابل اعتراض مواد شامل کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر کوغم و غصہ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
معاملہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے، جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (BOSE) نے نصابی کتاب پر پابندی لگا دی اور جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام اسکولوں کو اسے فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کی۔ نصابی کتاب کے پبلشر اور ڈسٹری بیوٹر کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا۔
’جموں و کشمیر اور لداخ کے UTs کے تمام اسکولوں کو یا تو CBSE، JKBOSE یا ملک کے کسی دوسرے بورڈ سے وابستہ ہیں، کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ JAY CEE پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈکے ذریعہ شائع کردہ 7ویں جماعت کے لیے ‘ہسٹری اینڈ سوکس ایڈیشن، 2020 کی نصابی کتاب کا استعمال نہ کریں۔ اگر کسی اسکول میں نصابی کتاب استعمال ہو رہی ہے تو اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ بصورت دیگر، قانون کی دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی‘۔ ڈائریکٹر اکیڈمکس، BOSE نے ایک نوٹیفکیشن میں یہ انتباہ کیا۔
جموں و کشمیر کی اسلامک فیرینٹری نے کہا کہ قابل اعتراض مواد کی اشاعت مسلم کمیونٹی کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس کے صدر محمد عامر نے کہا کہ سازش وقت سے پہلے ہی بے نقاب ہو گئی۔ اس طرح کی کارروائیاں تواتر سے ہوتی رہی ہیں، لیکن وادی کشمیر میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، اور ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔
پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن آف جموں و کشمیر (PSAJK) نے تمام کتابوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی اور تمام اداروں سے کہا کہ وہ ماہر کمیٹی سے منظوری حاصل کرنے سے پہلے کسی بھی نئی کتاب کو متعارف کرانے سے گریز کریں۔ تمام نامور پبلشرز کے ساتھ ایک میٹنگ بھی کی جس میں مشورہ دیا گیا کہ وہ ہر کتاب کو اسکولوں میں ریلیز کرنے سے پہلے چیک کر لیں۔










