کبھی کبھی بیان بازی میں عجلت،
مسئلہ کی گہرائی میں جائے بغیر یا کبھی عدالت کے فیصلے کا سنجیدگی سے،ذرا ٹھہر کر مطالعہ کیے بغیر میڈیا کو کچھ بھی کہنے کی جلد بازی اکثر کسی پریشانی میں ڈال دیتی ہے۔اس کا بارہا مشاہدہ کیا گیا ہے اور کل یعنی 16,ستمبر کوبھی ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملا ،سپریم کورٹ کے خوبصورت لان سے میڈیا کو بائٹ دیتے ہوئے مسلم فریق کے نمائندوں کی باچھیں کھلی جارہی تھیں ـوکیل ہوں یا لیڈر ،بورڈ کے رکن ہوں یا سوشل ایکٹوسٹ وہ اس فیصلہ کو مسلم فریق کی عظیم الشان فتح اور سرکار کے منھ پر طمانچہ بتاتے نہیں تھک رہے تھے ـ ،ایک معروف صاحب نے یہاں تک دعویٰ کردیا کہ وقف بائی یوزر میں بھی راحت ملی ہے ، غرض ان جیسے حضرات نے پورے ملک میں یہ پیغام پہچادیا کہ عبوری فیصلہ ہمارے لیے فتح کی مانند ہے اور سرکار کو دھچکا ہےـ،مسلمانوں نے بھی راحت کی سانس لی ،مگر شام ہوتے ہوتے ہوش فاختہ کرنے والی خبر آنے لگی ،جب فیصلے کی پرتیں کھلیں تو واہ واہ اور مکرر ارشاد کرنے والوں کے منھ لٹک گیے ،ان کا لہجہ بھی بدل گیا اور انداز بیاں بھی ـ,کیونکہ جب پورا فیصلہ پڑھا گیا تو کہانی کچھ اور نکلی۔ جس فیصلے کو وہ صبح تک اپنے حق میں سمجھ رہے تھے، اب وہ کہنے لگے کہ یہ ان کے خلاف ہے۔معروف صحافی سنجے شرما نے صحیح کہا ہے کہ "کمرہ عدالت میں فیصلے کے ایگزیکٹو حصے کو مختصر طور پر سننے کے بعد مسلم فریق راحت محسوس کر رہے تھے اور اسے اپنی جیت سمجھ رہے تھے، لیکن جب 128 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔ جب اس پورے فیصلے کو حوالہ کے ساتھ تفصیل سے پڑھا گیا تو مسلم فریقوں کو اندازہ ہوا کہ جس چیز کو وہ فتح اور راحت سمجھ رہے تھے وہ کچھ اور ہی نکلا۔” ایسا لگا کہ کسی کے بندھے ہاتھ اور پیر تو کھول دیے گیے مگر اس کی گردن دبوچ لی گئی ـ چھوٹی چھوٹی کچھ شقوں پر اسٹے برقرار رکھا مگروقف ایکٹ کو باقی رکھا ـ وقف بائی یوزر جو اوقاف کا سب سے بڑا سرمایہ ہے تقریبا دو تہائی املاک اسی کے تحت آتی ہیں اس ہر کورٹ نے کوئی راحت نہیں دی ،اور جن راحتوں ہر بغلیں بجا رہے ہیں انہیں بھی کئی سارے اگر مگر جوڑدیا گیا ہے نہ کلکٹر کی پاور ختم کی گئی ہے نہ سروے ہر روک لگی ہے یعنی ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ـاس کا اعتراف بعد میں بورڈ کے وکیل ایم آر شمشاد نے بھی کیا ـ،بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کا شام کو دوسرا بیان آگیا جس میں آندولن تیز کرنے کا اعلان کیا گیا ،کسی نیت پر شبہ نہیں ہے نہ کرنے کا حق ہے ـمگر قیادت کو جانچ پرمکھ کے بعد ہی کچھ کہنا چاہیے ایسے ہی بھاگوت کے ایک دو خوش کن بیانات کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ،ملاقات کی پیشکش کردی گئی ،اور مذاکرات کی خواہش بھی ،تاحال بھاگوت کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا – بہت ہی چھوٹا منھ بڑی بات بیانات دینے کی جلد بازی میں احتیاط اور توازن کا دامن ایسے لوگوں کے ہاتھوں سے بھی چھوٹ جاتا ہے جن کے تقدس اور پاکیزگی کا یہ عالم بتایا جاتا ہے کہ وہ دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کرنے بیٹھ جائیں ،گنہگار اپنے منھ دھولیں ،میڈیا میں ہر صورت نظر آنے کی دوڑ میں وقار ومغتبریت بھی داؤ پر لگ جائے تو یہ بیت گھاٹے کا سودا ہے ،ایک درخواست اور ـ sir اور ووٹ کے حق سے محرومی کے اندیشوں میں گرفتار اور مطلوبہ کاغذات کی زنبیل جمع کرنے کی تگ ودو میں الجھا عام آدمی کوئی آندولن چلانے کے موڈ میں ہے بھی ، اس کا پتہ کرلیا جائے ،کیونکہ بورڈ نے آندولن تیز کرنے کا اعلان کردیا ہے ـاور یہ بھی کہ ایسا نہ ہو کہ جب نماز کا وقت ہو تو مؤذن لاپتہ ہو جائے یا کامیابی کے سجدہ شکر بجا لائے
گزشتہ ہفتے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ایک ہنگامی اجلاس کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے۔ اگرچہ رہنماؤں نے اپنی آگے کی حکمت عملی پر اختلاف کیا، لیکن انہوں نے اسرائیل کے خلاف کم سے کم کارروائی پر اتفاق کیا۔ لیکن اس سے زیادہ ٹھوس نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے ایک عرب فوجی اتحاد کے ظہور کو متحرک کیا ہے
**عرب نیٹو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصر کی طرف سے ‘عرب نیٹو’ کے نام سے مجوزہ اتحاد، جس کے پاس عرب دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، قطر میں ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آیا، جس میں پاکستان اور ترکی نے بھی شرکت کی۔ پاکستان، واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس مسلم ملک، نے نہ صرف ہنگامی سربراہی اجلاس میں شرکت کی بلکہ ‘خطے میں اسرائیلی منصوبوں کی نگرانی’ کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس کا مطالبہ بھی کیا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کو معاشی طور پر نچوڑنے پر زور دیا۔عراقی وزیر اعظم محمد السودانی نے نیٹو طرز کے اجتماعی سلامتی کے ڈھانچے کی بھی وکالت کی اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عرب یا اسلامی ملک کی سلامتی اور استحکام ہماری اجتماعی سلامتی کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
**حملے کے بعد اقدام میں تیزی
عرب اسپرنگ کے بعد دہشت گردی کے خلاف 34 ملکی اسلامی اتحاد کے قیام کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے ایک دہائی پرانا اقدام شروع کیا گیا۔ دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد اب اس منصوبے میں تیزی لائی جا رہی ہے کیونکہ ٹرمپ کا امریکہ دنیا بھر کے اتحادیوں کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات کی شرائط پر نظر ثانی کرنے میں مصروف ہے۔پیر کو دوحہ میں قطر کی میزبانی میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس بھی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے لیے ایک اہم موقع تھا، جس میں مصر نے نیٹو جیسے اجتماعی دفاعی نظام کی تازہ کوشش کی تھی۔
ایک مجوزہ مشترکہ عرب فورس کا خیال، جو یمن کے تنازع اور داعش کے عروج کے درمیان 2015 میں شرم الشیخ میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں قاہرہ کی طرف سے سب سے پہلے پیش کیا گیا تھا، خود مختاری کے خدشات، علاقائی دشمنیوں اور فوجی رکاوٹوں کی وجہ سے طویل عرصے سے معدوم ہے۔ تاہم، دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے، ، نے اس تجویز میں نئی جان ڈال دی ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے عرب دنیا کی سب سے بڑی فوج (450,000 سے زیادہ فعال فوجی) کے طور پر اپنے ملک کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قاہرہ کو اتحاد کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی پیش کش کی ہے
** مصر کا کلیدی رولرپورٹس بتاتی ہیں کہ مصر ابتدائی طور پر 20,000 فوجیوں کی پیشکش کر رہا ہے، جس میں ‘عرب نیٹو’ کا صدر دفتر قاہرہ میں ہوگا اور ایک مصری فور اسٹار جنرل اس کا پہلا کمانڈر ہوگا۔ یہ فورس عرب لیگ کے 22 ارکان کے درمیان قیادت کا رخ کرے گی، جس میں فوج، فضائیہ، بحریہ اور کمانڈو یونٹس کے علاوہ تربیت اور لاجسٹکس شامل ہیں۔سعودی عرب کو ڈپٹی کمانڈ رول کے لیے ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ممکنہ طور پر خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو فنڈنگ اور جدید صلاحیتوں کے لیے آمادہ کر رہا ہے۔اس تجویز کو اسرائیل کے خلاف جارحانہ معاہدے کے بجائے "دفاعی اقدام” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد سیکیورٹی خطرات، دہشت گردی یا عرب دنیا کی سلامتی واستحکام کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی فرد کو روکنا ہے۔
*’عرب نیٹو پر کارروائی سے زیادہ بات‘
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا عہد ایک اہم قدم کے طور پر کام کر سکتا ہے، جس میں وسیع تر عربوں کی شرکت سے اس کا دائرہ کار وسیع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم عرب نیٹو کی تجویز کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا ہے کیونکہ رکن ممالک نے ضروری وعدوں کے بجائے صرف مذمت اور جھوٹے وعدوں کی پیشکش کی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر عزم کی کمی تھی۔ مصر جہاں عرب نیٹو کی حمایت کرتا ہے، وہیں شیعہ ایران اسے اسلامی شکل دینا چاہتا ہے۔
مصری نژاد امریکی مصنف حسین ابوبکر منصور نے کہا کہ دوحہ سربراہی اجلاس نے گہری تقسیم کو بے نقاب کیا اور بہت کم ٹھوس لیکن علامت کی نمائش کی ۔ "حقیقت یہ ہے کہ عرب نیٹو مصر کا خیال ہے اور مسلم نیٹو ایران کا ہے، آپ کو الجھنوں، پوشیدہ منصوبوں اور دوسرے ممالک کی سوچ کے بارے میں سب کچھ بتاتا ہے،” انہوں نے X پر لکھا۔ سعودی عرب مصر یا ایران کو تحفظ کی رقم دینے کے بجائے آئرن ڈوم کو فنڈ دینے کو ترجیح دے گا۔جانس ہاپکنز کے ماہر اقتصادیات اسٹیو ہینکے نے سربراہی اجلاس کو "بھونکنے والا کاٹنے والا نہیں ” کہہ کر مسترد کردیا۔ تاہم، "عرب نیٹو” کی موجودہ تجویز اپنی توجہ انسداد دہشت گردی سے اجتماعی سلامتی پر مرکوز کرتی ہے۔ اگر اس کا ادراک ہو گیا تو یہ علاقائی طاقت کی حرکیات کو نئی شکل دے سکتا ہے، جس سے امریکی ضمانتوں پر انحصار کم ہو جائے گا، جیسا کہ دوحہ حملے کے دوران واشنگٹن کی بے حسی کا ثبوت ہے۔







