نئی دہلی:(ایجنسی)
آسام سرکار نے ریاست کے ڈٹینشن سینٹر (حراستی مراکز) کانام بدل دیاہے ۔ اب انہیں ’ٹرانزٹ کیمپ‘ کہاجائے گا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 17 اگست کو آسام کے داخلہ سکریٹری اوری سیاسی محکمہ کے چیف سکریٹری نیرج ورما کے ذریعہ دستخط شدہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’ ڈٹینشن سینٹر کا نام بدل کر ٹرانزٹ کیمپ ‘ کردیا گیاہے۔
آسام کے گوآلپاڑہ ، کوکرا جھار ، تیج پور، جورہاٹ، ڈبروگڑھ اور سلچر اضلاع میں چھ ڈٹینشن سینٹر ہے، جہاں اعلانیہ یا قصور وار ثابت کئے جاچکے غیر ملکی شہریوں کو رکھا جاتا ہے ، انہیں ریاستی سرکار کے ذریعہ سال 2009 میں عارضی طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا ، گوہاٹی سے تقریباً 150 کلومیٹر دور گوآلپاڑہ ضلع کے مٹیا میں ایک نیا ڈٹینشن سینٹر زیر تعمیر ہے ۔
گزشتہ جولائی مہینے میں وزیر اعلیٰ ہمینت بسوا سرما نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ ان تین مراکز میں 181 لوگ بند ہیں، ان میں سے 61 ’غیر ملکی قرار ‘اور 120 سزا یافتہ غیر ملکی ‘ ہے ۔ سپریم کورٹ کے 10 مئی 2019 کے ایک حکم کے بعد ان حراستی مراکز میں بند لوگوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ۔ جس میں کہا گیا تھا کہ قرار غیرملکیوں کو کچھ شرائط کی بنیاد پر تین سال کی حراست کے بعد رہا کیا جا سکتا ہے ۔
وکلاء اور کارکنان کی ایک ٹیم کے ذریعہ دائر درخواستوں کے بعد گوہاٹی ہائی کورٹ نے اکتوبر 2020 میں آسام سرکار سے جیل کیمپس کے باہر ڈٹینشن سینٹر قائم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدام پر رپورٹ مانگی تھی ۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ڈٹینشن سینٹر جیل کے باہر بنائے جانے چاہئے ،جہاں بجلی، پانی، صاف وصفائی ،سیکورٹی وغیر ہ کی مناسب انتظامات ہو۔ تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ڈٹینشن سینٹروں میں مختلف وجوہات سےاب تک 29 قیدیوں کی موت ہو چکی ہے۔ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سرما نے کہا تھا کہ غیر ملکی ٹریبونل میں 1,36,173 مقدمات زیر التوا ہیں ، جبکہ اب تک 2,98,471 مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں۔ 10 دسمبر 2019 کو لوک سبھا میں مرکزی وزارت داخلہ کے جواب کے مطابق صرف چار غیر ملکی کو بنگلہ دیش ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔









