اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آسام میزورم سرحدی تنازعہ اور نارتھ ایسٹ علاقہ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
آسام میزورم سرحدی تنازعہ اور نارتھ ایسٹ علاقہ
41
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

ہمارے ملک میں دو صوبوں کے درمیان سرحد یا قدرتی معدنیات و دیگر وسائل کو لے کر تنازعات کوئی نئی چیز نہیں ہیں، 1956 میںسرحد کو لے کر داخلی تنازعات کرناٹک اور مہاراشٹر کے مابین بھی ہوئے، پھر تمل ناڈو اور کیرلا کے درمیان ندی کے پانی کو لے کر مسائل کھڑے ہوئے، دہلی اور ہریانہ کے درمیان یا دیگر صوبوں کے آپسی اختلافات یا تنازعہ ہمارے ملک میں ہوتے رہے ہیں، ان تنازعات کو کبھی حکومتیں آپس میں اور کبھی عدالت عالیہ میں حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، تاہم 26 جولائی کو آسام اور میزورم کے مابین سرحدی تنازعہ نے جس طرح خونریزی کی شکل اختیار کرلی ہے وہ ہمارے ملک کے لئے تشویشناک ہے، جب کہ ایک روز پہلے ہی 25 جولائی کو مرکزی وزیرداخلہ نے شیلانگ میں نارتھ ایسٹ صوبوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ میٹنگ میں ان تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس میٹنگ کے اگلے ہی دن کئی افراد کو آپسی گولی باری میں جان گنوانی پڑی جس میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ 

آسام ہمارے ملک کا ایک صوبہ ہے، آسام کے وزیراعلی کے حالیہ بیانات پورے ملک کے لئے یقینا چونکا دینے والے ہیں، پہلے تو آسام میزورم کے سرحدی علاقوں میں کمانڈو بٹالین کی تعیناتی کے ساتھ ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کی بات کہی گئی تھی وہیں تازہ بیان میں آسام کے شہریوں کو میزورم جانے سے روکتے ہوئے ان کی جان کو خطرہ بتایا ہے، ان بیانات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک ملک کا دوسرے ملک کے ساتھ جنگ کے حالات بن چکے ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہی صوبے ہمارے ملک کا ہی حصہ ہیں۔ آسام کے وزیراعلی کے بیانات کے مطابق آسام کی سرحد کے اندر میزورم کے شہریوں نے حملہ کیا ہے جس کی تفتیش آسام پولیس کرے گی کہ آخر شہریوں کے پاس جدید آٹومیٹک ہتھیار کہاں سے آئے؟  یقینا ہر شہری کے ذہن و دماغ میں یہ سوال آنا فطری ہے کہ کیا ہمارے ملک میں یہ کسی خانہ جنگی کی شروعات تو نہیں؟ ضروری ہے کہ اس تنازعہ کی تاریخ اور اسباب پر روشنی ڈالی جائے۔

ہمارے ملک کا نارتھ ایسٹ علاقہ آسام، منی پور، تریپورہ، میگھالیہ، ناگالینڈ، میزورم اور اروناچل پردیش کے صوبوں پر محیط ہے، یہ پورا علاقہ اور اس علاقے کے تمام ہی صوبے اپنی علیحدہ تہذیب و تمدن، مذہب اور زبان کے ساتھ علاقائی انفرادی شناخت کے حامل قبائل و گروہ کے لئے پہچانے جاتے ہیں۔ ان تمام ہی علاقوں کے باہمی تنازعات ہیں اور ان تنازعات میں بنیادی سبب سرحدی علاقوں میں زمین کی منظم نشاندہی کا موجود نا ہونا ہے، وہیں قدرتی معدنیات، خانہ جنگی اور مسلح شدت پسند گروہوں کا موجود ہونا، اور تہذیبی شناخت کا آپسی تسادم بھی اہم اسباب میں شامل ہیں جو صوبوں کے آپسی تنازعہ کو مزید متشدد بنادیتے ہیں۔ نارتھ ایسٹ کا یہ پورا علاقہ ہمارے ملک سے ایک سیلی گوڑی کی تنگ راہداری (کوریڈور) سے جڑتا ہے جس کو چیکن نیک (مرغ کی گردن) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جب کہ چین کی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے۔

آسام صوبے سے ہی الگ ہوکر1963 میں ناگالینڈ صوبہ بنا، پھر1972 میں آسام سے کٹ کو میگھالیہ اور میزورم کے دو الگ الگ حصے بنائے گئے، پہلے تو میزورم مرکز کے ماتحت ریاست بنی تاہم1987 میں ایک مکمل صوبہ کا درجہ دے دیا گیا، لیکن ان تمام ہی صوبوں کی سرحدوں کو باقاعدہ نشاندہی کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں کا آسام سے کبھی کسی ندی یا نالے تو کبھی کسی پہاڑ کو لے کر تنازعہ ہوتا رہتا ہے، آسام اور میزورم کی درمیانی سرحد تقریبا 165 کلومیٹر وسیع ہے جو آسام کے کریم نگر، کچھار اور ہالا کانڈی کے اضلاع سے متصل ہے۔ آسام اور میزورم کے درمیان تنازعہ کا سبب 1875 اور 1933 کے دو نوٹیفیکیشن بھی ہیں جو کہ کچھار اور لوشائی کی پہاڑیوں کے لے کر سرحد کو متنازعہ کرتے ہیں۔ 1972 سے یہ تنازع شروع ہوا جو 2020 میں تشدد کی شکل اختیار کرگیا، اکتوبر 2020 میں لیلاپور آسام میں کچھ آسامیوں نے میزورم پولیس پر پتھربازی کی جس کے بعد میزورم کے شہریوں نے جمع ہوکر پتھر بازی سے جواب دیا، مرکزی حکومت کی دخل اندازی کے بعد حالات قابو میں آئے، آسام اور میزورم کے اعلی افسران نے ایک میٹنگ میں سرحدی علاقوں کو موجودہ صورتحال میں ہی قبول کرنے پر رضامند ہوگئے، لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات نے دونوں صوبوں کے درمیان ایک بار پھرسرحدی تنازعہ کو بے قابو کردیا ہے، میزورم حکومت کا الزام ہے کہ آسام پولیس نے میزورم کے علاقے میں گھس کر پہلے سی آرپی ایف اور میزورم پولیس کی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد میزورم کی طرف سے جوابی کاروائی ہوئی تھی۔

آسام کا اروناچل پردیش سے سرحد کو لے کر 1992 میں تنازعہ شروع ہوا تھا، اروناچل پردیش حکومت نے آسام حکومت کے اوپر الزام لگایا تھا کہ آسام نے ان کے علاقوں میں قبضہ کرکے تعمیراتی کام کئے ہیں نیز اروناچل کی سرکاری و رہائشی عمارتوں کو آگ زنی کا نشانہ بنایا ہے، 2005 اور2007 میں بھی آسام اور اروناچل پردیش کے بیچ تنازعات ہوئے، 2005 میں آسام حکومت کے افسران نےاروناچل پردیش میں تقریبا 100 گھروں کو زمین دوز کردیا تھا، جب کہ 2007 میں دونوں طرف سے گولیاں بھی چلی تھیں جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

آسام حکومت کا میگھالیہ حکومت کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ ہے، 1972 میں میگھالیہ کو آسام سے الگ کیا گیا جس کے بعد میگھالیہ کی راجدھانی شیلانگ سے دیشپور منتقل ہوگئی، آسام کے ضلع کامروپ کی سرحد ضلع لانگپیہہ سے متصل ہے جو کہ ویسٹ گارو پہاڑیوں پر واقع ہے، اس سرحد کے علاقوں کو لے کر آسام اور میگھالیہ کا تنازع ہوتا رہتا ہے۔2010 میں ہونے والے تصادم میں 4 افراد کی جان گئی تھی وہیں 26 افراد زخمی ہوئے تھے، 2018 میں دوبارہ مقامی باشندوں اور آسام پولیس میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ناگالینڈ بھی 1963 سے پہلے آسام صوبہ کا ہی حصہ ہوا کرتا تھا، 1963 میں ناگالینڈ کو الگ صوبہ کا درجہ دے دیا گیا، جس کے بعد سے ہی ناگالینڈ اور آسام کے مابین بھی سرحدی علاقوں کو لے کر تنازعہ چل رہاہے، 1965 میں پہلی بار اس تنازعہ نے تشدد کی شکل اختیار کرلی، جس میں فصلوں کو جلانے، اغوااور قتل کی متعدد وارداتیں ہوئیں، 1979 میں چونگاجن کے علاقے میں خونریز جھڑپیں ہوئیں جس میں 55 افراد کے قتل کے علاوہ تقریبا 467 گھروں کو منہدم کردیا گیا، 1985 میں میراپانی علاقے میں پولیس سے جھڑپوں کے دوران32 افراد کی موت اور 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے جب کہ رپورٹوں کے مطابق 25ہزار سے زائد افراد اپنے گاوں چھوڑکربھاگنے کے لئے مجبور ہوگئے، ابھی تک آسام اور ناگالینڈ کے درمیان سرحدی تنازعہ ختم نہیں ہوسکا ہے۔

دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع کو لے کر مسائل کا پیدا ہونا تو انسانی ذہن و دماغ قبول کرسکتا ہے، دو پڑوسی ملکوں کے مابین سرحد پر گولی باری یا خونی جھڑپ تو ممکن ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ملک کی سرحدوں کے اندر ایک صوبے کا پڑوسی صوبوں کے ساتھ سرحدی علاقوں کو لے کر خونی تصادم کی تاریخ ہمارے ملک کی سلامتی و اتحاد کے لئے یقینا ایک سوالیہ نشان ہے، وہ بھی ایک ایسی جغرافیائی محل وقوع پر جہاں چین جیسا طاقتور ملک ہماری سرحدوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہو، نارتھ ایسٹ کے علاقوں میں خانہ جنگی اور ہتھیار بند مسلح گروپ و قبائل بھی موجود ہیں، ان نازک حالات میں سیپریم کورٹ کو اپنی دستوری ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کرتے ہوئے صوبوں کے درمیان ہونے والے اس مسلح تصادم و تنازع کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پرعملی اقدامات کرنے چاہیے ہیں، صرف آسام کی سرحدوں کو باقاعدہ منظم کرنے سے پورے نارتھ ایسٹ علاقے کے سرحدی تنازعات ختم ہوسکتے ہیں،  تنازعات کا نصف صدی سے خونریزی کی شکل اختیار کرنے کے باوجود باقی رہنا کسی بھی ملک کی سلامتی و تحفظ کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN