پٹنہ :
بہار میں بی جے پی کے ایم ایل سی ٹننا پانڈے ریاست میں اپنی ہی اتحادی جے ڈی یو اور نتیش کمار کے خلاف مورچہ کھولے ہوئےہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو صورت حال کا وزیراعلیٰ بتادیا اور تیجسوی یادو کی حقیقی جیت بتا دی۔ اس کے بعد انہیں پارٹی سے برخواست کردیا گیا۔ اس سے پہلے انہیں نوٹس دیا گیا تھا، اس کے باوجود پانڈے محمد شہاب الدین کے بیٹے اسامہ سے ملنے چلے گئے۔
جے ڈی یو لیڈر سنجے سنگھ نے ایم ایل سی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہاکہ ٹننا پانڈے حد پار کرگئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر ہمارے لیڈر پر انگلی اٹھے گا اس کو کاٹ دیاجائے گا۔ پانی سر کے اوپر سے گزر رہاہے ۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے گا ۔ سنجے سنگھ نے کہاکہ اس شخص کو بڑے لیڈر خاموش رہ کر حمایت کررہے ہیں۔ جے ڈی یو کا کوئی لیڈر بی جے پی پر حملہ نہیں بولتا ،لیکن لگاتار یہ لوگ حملہ بولتے ہیں۔
بتادیں کہ ٹنناپانڈے نےنتیش کمار پر تیکھے بیان دئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ وہ لگاتار نتیش کے خلاف بولتے رہیں گے کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔ پانڈے نے کہاتھاکہ شہاب الدین کی موت کے پیچھے نتیش کا ہاتھ ہے اور وہ انہیں جیل بھیجوا کر رہیں گے۔ اسی کے جواب میں سنجے سنگھ نے کہاکہ بہار میں این ڈی اے کی سرکار ہے اور نتیش کمار لیڈر ہیں۔ نتیش کمار پر کئی الزام لگائے گئے ۔ ٹننا پانڈے شراب تاجر تھے، ان کا کاروبار بند ہوگیا تو پیٹ میں درد ہوگیا۔
جے ڈی یو نے کہاکہ ایس شخص کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا جارہاہے ، اسے خاموش رہ کر حمایت کی جارہی ہے ۔ ہم لوگ کوئی گونگا نہیں ہے، ان ہی کو زبان میں جواب دیا جائے گا۔
سنجے سنگھ نے ایمبولینس گھوٹالے کے معاملے بھی کہاکہ ان پر کارروائی کی جانی چاہئے، بتادیں کہ سیوان میں ایمبولینس خرید کے مبینہ گھوٹالے میں ٹننا پانڈے پر الزام لگے تھے۔ اطلاع کے مطابق ایمبولینس کی قیمت 22 لاکھ روپے بتائی گئی تھی جبکہ یہ ایمبولینس سات لاکھ میں خرید گئی ۔ الزامات کے بعد ٹننا پانڈے نے کہاتھاکہ انہیں صرف لیٹر پیڈ پر لکھ کر دیا تھا ۔ اپوزیشن کو ہی معلوم ہے کہ ایمبولینس کیسے خریدی گئی تھیں۔










