نئی دہلی :
کسان تحریک کے سات مہینے گزر جانے کے بعد کسان دہلی کی سرحد پرثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ کئی بار تنازع ہونے کے باوجود کسان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہیں بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت لگاتار مرکزی حکومت پر حملہ بولتے رہتے ہیں ۔ اب انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مذہب اور ذات کے نام پر سماج کو لڑانا ہی بی جے پی کا راشٹر دھرم ہے ۔
راکیش ٹکیت نے ایک ایسی تصویر بھی ٹویٹ کی ہے جس میں لکھا ہوا ہے ’ بھارتیہ والمیکی سنگھ‘ دراصل بھارتیہ والمیکی سنگھ نے ان کااستقبال کیا تھا۔ انہوں نے 5 جولائی کو غازی پور میں والمیکی کسان پنچایت کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ کسان یونین کا راشٹر دھرم تمام مذاہب وذات کے لوگوں کا پیٹ بھرنا اور انہیں ایک دھاگے میں باندھنا ہے ۔
راکیش ٹکیت نے بی جے پی کی مرکزی حکومت اور یوپی حکومت کے خلاف بگل پھونک چکے ہیں۔ انہوں نے کئی بار کہا ہے کہ کسان تحریک تب تک چلتی رہے گی جب تک یہ تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لئے جاتے، چاہے 2024 تک تحریک کرنا پڑے۔ وہیں ٹکیت نے کھل کر کہا ہے کہ اترپردیش میں وہ لوگوں سے اپیل کریں گے کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں، باقی کسی بھی پارٹی کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
بتادیں کہ راکیش ٹکیت مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران وہاں پہنچے تھے ۔ وہاں بھی انہوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹیں کرنے کی اپیل کی تھی، حالانکہ وہ یہ بات کبھی قبول نہیں کرتے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کھل کر کسان تحریک کے حق میں کھڑا ہے ۔ دو دن پہلے ٹی ایم سی لیڈر یشونت سنہابھی راکیش ٹکیت سے ملاقات کرنے غازی پور بارڈر پہنچے تھے۔
راکیش ٹکیت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت بات نہیں مانتی ہے تو کسان ایک بار پھر دہلی میں داخل ہوجائیں گے اور ٹریکٹر ریلی اس بار پارلیمنٹ ہاؤس تک جائے گی۔ وہ 26 جنوری کے تشدد کے لیے بھی سرکار اور دہلی پولیس کو ہی ذمہ داری ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کسانوں کے خلاف کی گئی سازش تھی۔









