نئی دہلی:( نامہ نگار)
جماعت اسلامی ہند نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع زرعی قوانین کی سی اے اےقانونبھی واپس لیا جائے، اس لیے کہ یہ قانونبنیادی طور پر غیر آئینی عوام مخالف اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے صریحاً خلاف ہے۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جماعت اسلامی کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے یہ بات کہی۔ اس موقع پر مجتبیٰ فاروق بھی موجود تھے، جو جماعت اسلامی کے ایجوکیشنل بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
روزنامہ خبریں کے اس سوال پر کہ بعض حلقوں کا مطالبہ ہے کہ کسان آندولن کی طرح پھر شاہین باغ آباد کئے جائیں اور سی اے اے مخالف تحریک چلائی جائے۔ انجینئر سلیم نے کہا کہ امید ہے کہ سرکار یہ نوبت نہیں آنے دے گی اور متنازع قانون واپس لے لے گی۔ جہاں تک تحریک کو پھر چلانے کا سوال ہے۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جس سے فرقہ پرستوں کو ہندو مسلم کرنے کا موقع ملا۔منافرت پھیلانے کا بہانہ ہاتھ آئے ،جیسا کہ یوپی الیکشن میں کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ایسی کسی تحریک کے لیے مناسب نہیں۔










