ملاحظات، ( مولانا )عبدالحمید نعمانی
یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ملک میں دو طرح کے قانون کے نفاذ اور دوہرے عمل کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، ایسا تقریبا تمام شعبہ ہائے حیات میں ہوتا نظر آتا ہے اور سب کچھ سناتن سنسکرتی، ہندوتو ، راشٹر واد اور ہندستانی تہذیب و روایات کے فروغ کے نام پر ہو اور کیا جا رہا ہے، پورے ملک، خصوصا جن ریاستوں میں بی جے پی قیادت والی سرکاریں ہیں، وہاں ایک طرح سے غیر اعلانیہ ایمرجنسی لگی نظر آتی ہے، دلتوں، آدی واسیوں، محنت کشوں خصوصا اقلیتوں اور ان میں مسلم اقلیت پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے مختلف قسم کے حربے، ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں،
تقریبا تمام جمہوری اداروں کو یا تو بے اثر کر دیا گیا یا ہائی جیک کر لیا گیا ہے، اس کو الیکشن کمیشن کے کردار میں دیکھا جا سکتا ہے، بہار سے بنگال تک میں موثر جامع جانچ پڑتال کے نام پر آزاد عوام کی شہریت اور قانونی حقوق کو پامال کرنے کی سمت میں جارحانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں ، جب کہ الیکشن کمیشن کو ملک کے باشندوں کی شہریت کے متعلق اقدام و فیصلے کا کوئی آئینی حق و اختیار نہیں ہے، ایسا کر کے الیکشن کمیشن اپنی آزاد حیثیت کو مجروح و ختم کر رہا ہے، اس پر سرکار اوراس میں شامل پارٹیوں کو کوئی خاص اعتراض نہیں ہے ،ایسی حالت میں بر سر اقتدار پارٹی کے مقصد و منشاء کے تحت کام کرنے کے الزامات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے، یہ سمجھ سے پرے ہے کہ جس ووٹر لسٹ سے 2024 کے عام انتخابات ہوئے وہ اب بے معنی کیسے ہو گئی ہے، یہ بھی ناقابل فہم ہے کہ جس آدھار کارڈ کی ہر معاملے میں ضرورت بتائی جاتی ہے اسے ووٹنگ کے معاملے میں آدھار اور ثبوت شہریت و رائے دہندگی ماننے میں آخر دقت کیا ہے، شہریوں کی آئینی و شہری آزادی و حق کے استعمال کی راہ کو آسان اور اس کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اس کی راہ میں مختلف قسم کی رکاوٹیں اور مشکلیں کھڑی کرنے کے جتن کیے جاتے ہیں، عوام کو اس طرح کے پچھڑے میں پھنسانے کا مقصد بنیادی مسائل کو لے کر ان کی توجہ کو ہٹانا ہے اور کچھ مخصوص طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے دیگر کو حاشیے پر ڈالنا ہے، اس کی زد میں بلا شبہ مسلم اقلیت زیادہ ہے تاہم گزرتے دنوں کے ساتھ، اکثریت سے تعلق رکھنے والے طبقات بھی آتے جا رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بھی آدھی سے زیادہ تعداد سنگھ اور بی جے پی کے ساتھ نہیں آسکی ہے، تمام تر کوششوں کے باوجود سناتن اور ہندوتو کے نام پر اس کو ساتھ لانے میں کامیابی نہیں ملی ہے، کہیں کہیں صورت حال برخلاف بھی ہو جاتی ہے، اس کی مثال جھارکھنڈ ہے، وہاں ایک وقت میں آر ایس ایس، بی جے پی کا خاصا اثر تھا، اب معاملہ برعکس ہو گیا ہے، گزشتہ کچھ عرصے میں بڑی آبادی آر ایس ایس، بی جے پی کے دائرہ اثر سے باہر ہو گئی ہے اور باقی آبادی ، بڑی تیزی سے باہر نکلنے کی راہ پر ہے، اس پیدا شدہ صورت حال نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی اعلی قیادت کو فکر و تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیوں کہ تقریبا تمام ریاستوں میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی میں سنگھ ہریوارکا بڑا عمل دخل ہوتا ہے، نشی کانت دوبے جیسے کچھ لیڈر ہندو،مسلم، بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کا ہوا کھڑا کر کے، دلت، آدی واسی وغیرہ کی مخصوص طرح کی آبادیوں اور جغرافیائی حالات میں کشیدگی پیدا کر کے کامیاب ہو جاتے ہیں، اس میں بھی مبینہ سیکولر پارٹیوں کے انتشار و اختلاف کا زیادہ دخل ہے، اگر پبلک سروکار والے مسائل پر توجہ دیتے ہوئے فرقہ واریت کی مزاحمت کی جائے گی تو کامیابی کی راہ ہموار ہونے میں کوئی زیادہ رکاوٹ نظر نہیں آتی ہے
، اس کا نمونہ کانگریس امید وار دیپکا پانڈے کی مسلسل کامیابی ہے، آدی واسیوں اور دلتوں کے ساتھ او،بی،سی طبقات کی بڑی تعداد آر ایس ایس، بی جے پی کے اغراض و مقاصد کو کسی حد تک سمجھنے لگی ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کا خاصا بڑا حصہ ہندوتو کے نعرے کے زیر اثر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس اور دلت، آدی واسی سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے سنجیدہ توجہ دے کر کوئی خاص کام نہیں کیا ہے، کئی آدی واسی، دلت لیڈر بھی مختلف وجوہ و مفادات کے تحت آر ایس ایس، بی جے پی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، لیکن اس کا کوئی زیادہ مضبوط سماجی و نظریاتی بنیاد نہیں ہے، عملی صورت حال تو یہ ہے کہ ہندو راشٹر میں انہیں کوئی زیادہ عزت و جگہ ملنے والی نہیں ہے، وہ کچھ بھی کر لیں آر ایس ایس میں وہ ون واسی ہی رہیں گے، آدی واسی نہیں بن سکتےہیں، دیگر محنت کش طبقات اور عوام کو رفتہ رفتہ سمجھ میں آ جائے گا کہ ہندو اکثریت اور ہندوتو کا خاص معنی و مفہوم ہے، نیز یہ بھی کہ ہندو راشٹر کا مطلب، برہمن وادی راشٹر ہے، جس میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا کوئی زیادہ معنی و مطلب نہیں ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص جگہ ہے، کچھ لیڈروں کو تھوڑا بہت عہدہ، زر زمین وغیرہ ،اپنے ساتھ جوڑے رکھنے اور بہ وقت ضرورت برہمن وادی ہندوتو کے لیے استعمال اور ووٹ بینک کو بنائے رکھنے کے لیے دیے جاتے ہیں، باقی عام لوگوں کو اکثریت پرستی اور ہندوتو کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے، یہ ان کے لیڈر نتیش کمار، جیتن رام مانجھی، چراغ پاسوان، جینت چودھری وغیرہم بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں، ملک میں جس طرح کا منصوبہ بند طریقے پر ہندوتو اور اکثریت پرستی کے نام پر ماحول پیدا کر دیا گیا ہے اس سے نکلنا کوئی آسان نہیں رہ گیا ہے، اس کا بھر پور فائدہ بی جے پی اٹھا رہی ہے، اس میں آر ایس ایس اپنے طریقے سے، الگ الگ ترکیبوں سے رول ادا کرتا ہے، اس سے توجہ ہٹانے، بھٹکانے کے لیے موقع موقع پر داخلی خارجی اختلافات اور تنا تنی کی خبریں بھی پھیلا دی جاتی ہیں ،جب کہ سنگھ اور بی جے پی کے درمیان اصلا کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے، ایک دوسرے کو اپنی اپنی ضرورت اچھی طرح معلوم ہے، بی جے پی کے لیے انتخابی ماحول سازی میں آر ایس ایس کا زبردست رول ہوتا ہے، بی جے پی کے اقتدار میں رہتے ہوئے آر ایس ایس کی جو ترقی ہوئی ہے، وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے، دونوں کے گٹھ جوڑ اور باہمی کوششوں سے ملک پر ایک ایسی عجیب قسم کی اکثریت پرستی اور برہمن واد ہندوتو حاوی ہو گیا جس میں اصل اکثریت اور ہندو کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے ہیں، کچھ خاص طبقے اور سوچ کو ہندوتو اور سناتن کا نام دے کر سماج کے بڑے حصے کو گمراہ کرنے اور بیوقوف بنانے کا کام بڑی خوب صورتی سے کیا جا رہا ہے، ایسی حالت میں مسلم اقلیت کو حاشیے پر ڈالنے کو ہندو، ہندوتو کی ترقی و بول بالا کا عنوان آسانی سے دے دیا جاتا ہے اور باور کرایا جاتا ہے کہ تمہارے لیے راوی چین ہی چین لکھتا ہے، موقع ہی موقع ہے، ایک کے ساتھ ایک فری، مصیبت تو دوسروں کے لیے ہے، یہ باور کرانے کے لیے کچھ ایسے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں، ضرورت و مجبوری میں سرکاری، عوامی جگہوں پر، کبھی کبھار، ہفتے، مہینے، سال میں نماز کی ادائیگی کو جرم قرار دے کر کارروائی کی جاتی ہے، اور ہندو اکثریت کی طرف سے کیے جانے والے اعمال و مراسم کی ادائیگی میں سرکار اور اس کے عملے بھر پور تعاون کرتے ہیں، اس کی واضح مثال کانوڑ یاترا ہے، کانوڑ یاترا کے پورے عرصے میں لوگوں کی آمد و رفت میں کیسی کیسی رکاوٹیں اور مصیبتیں پیدا ہو جاتی ہیں، کانوڑیے کس کس طور سے ہنگامے اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں، یہ سب کو معلوم ہے، کانوڑ یاترا اور ٹرینوں میں پورے تام جھام کے ساتھ بھجن کرتن کے متعلق سرکاری رویہ کیا ہوتا ہے، اور نماز وغیرہ کے متعلق کیا رویہ ہوتا ہے، دونوں میں کھلا تضاد ہے، حالاں کہ دونوں مذہبی عمل ہیں،کانوڑ یاترا پر گوشت کی دکانیں لازما بند کرانے کے آرڈر جاری کر دیئے جاتے ہیں، اس کا دائرہ دیکھا دیکھی وسیع ہوتا جارہا ہے، جب کہ شراب کی دکانیں بند کرانے پر کوئی خاص توجہ نہیں ہے، ان پر پردے ڈالنے کی تجویز ہوتی ہے، ہر معاملے میں ہندو مسلم اینگل پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، مسلم اقلیت کو اقتصادی نقصان پہنچانے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس تعلق سے چندر شیکھر آزاد کے تبصرے میں خاصا دم نظر آتا ہے، اگر کوئی مذہبی عمل، لوگوں کے لیے مصیبت بن جائے تو اس پر سنجیدہ توجہ دینا چاہیے، مسلمان، رمضان المبارک، عید، عید الاضحٰی، شعبان، محرم الحرام کے مواقع پر شراب اور خنزیر گوشت کی دکانیں بند کرانے کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں تو کون سا کون رک جاتا ہے، پہلے بھی کانوڑ یاترا ہوتی تھی، لیکن ایسا فرقہ وارانہ ماحول پیدا نہیں ہوتا تھا، ہوٹلوں، دکانوں پر ان کے مالکان کا نام لکھوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، اب یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، ویسے ہم بھی اس کے خلاف ہیں کہ کوئی مسلمان اپنے ہوٹل، دکان کا نام، شیو، وشنو، رادھا، کرشن کے نام پر رکھے، عام سا ہندستانی نام، بھارت، اجالا، گلاب، وغیرہ پر نام رکھاجاسکتاہے، حالاں ان پر ہندوؤں کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے، تاہم اس طرح کے ناموں کی شناخت اکثریتی فرقے سے قائم ہو گئی ہے اور ملک میں اکثریت پرستی کے حوالے سے ایک خاص طرح کا ماحول پیدا کر کے اس کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے اثرات مختلف شعبہ ہائے حیات کے علاوہ عدلیہ پر بھی کچھ نہ کچھ یقینا مرتب ہوئے ہیں، اسے عمر خالد وغیرہ کے معاملے میں کھلی آنکھوں دیکھا جا سکتا ہے، اکثریت پرستی اور ہندوتو کو ملک و سماج پر لادنے کی مہم میں بدل دیا گیا ہے، اس سلسلے میں پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اکثریت پرستی اور ہندوتو کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھا سکے، راشٹر واد اور ملک و ریاست کی سیکورٹی کے نام پر شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سر گرم عمل اداروں اور تنظیموں کی آزادی عمل و اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے لیے دہشت گردی پر روک اور اربن نکسل ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے، دہشت گردی کے خلاف تو ہر امن پسند شہری ہے، مہاراشٹر کا پبلک سیکورٹی بل کا بہت خاص معنی ہے، ایک طرف گھر واپسی کے عنوان سے تبدیلی مذہب کی کھلی چھوٹ ہے تو دوسری طرف تبدیلی مذہب مخالف قوانین بنا کر اقلیتی فرقے کے خلاف سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جب کہ کوئی بھی اقلیتی فرقہ ملک میں جبر اور طاقت و خوف پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، نتیش رانا، سوبندو ادھیکاری وغیرہ کے انتہائی اشتعال انگیز فرقہ وارانہ بیانات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے تو دوسری جانب معمولی معمولی بیان پر سخت اقدامات کیے جاتے ہیں، اس سے اکثریت پرستی اور ہندوتو کے تسلط کو تقویت پہنچ رہی ہے، ادے پور فائلس جیسی فلمیں بنانے کا عمل بھی اکثریت پرستی اور ہندوتو کو فروغ دینے کی کوششوں کا ہی حصہ ہے، ان کے خلاف مزاحمت قابل قدر اور امید پیدا کرنے والی ہے کہ ملک میں قوت مزاحمت و جد وجہد ابھی باقی ہے، اس سے ملک پر اکثریت پرستی اور ہندوتو کو لادنے کی مہم پر یقینی طور پر کچھ نہ کچھ روک ضرور لگے گی،
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)











