اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تشدد کی محتاط خبر نگاری بنیادی صحافتی ذمہ داری

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
تشدد کی محتاط خبر نگاری بنیادی صحافتی ذمہ داری
257
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

اگرچہ صحافت کا بنیادی کام بغیر کسی ابہام کے خبریں منتقل کرنا ہے۔ تاہم ایک ایسے ملک یا خطے میں جہاں قارئین، سامعین اور ناظرین کے ذہنوں کو بعض سماجی، سیاسی اور مذہبی مبلغین نے آلودہ کر دیا ہو، وہاں صحافت سے وابستہ لوگوں کی ذمہ داری کچھ زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں صحافیوں کو کوئی بھی اطلاع عام کرنے سے پہلے ہمیشہ دو بار سوچنا چاہیے۔خبرکی مشمولات،نوعیت،متعلقہ حالات اورممکنہ اثرات کا بھر پور جائزہ لینے کے بعد ہی ایسی کوئی خبر عام کی جائے جس کی بے ہنگم ترسیل تباہی مچا سکتی ہے۔کشیدہ ماحول میں تشدد کی کسی خبر کو عجلت میں اس طرح شائع کہ نشر نہیں کرنا چاہیے جس سے آگاہی کم اور گمراہی پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو۔ آگاہی کا حق ادا کرنے کے لئے تمام اچھی یا بری خبریں اس طرح جاری کی جائیں کہ پڑھنے والوں میں بیداری پیدا ہو، کسی کے خلاف نفرت اور دشمنی نہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے بیشتر میڈیا ہاوس اِس محاذ پر ناکام ہیں۔قومی خبر رساں ایجنسیاں اب بھی بہت حد تک بچی ہوئی تھیں لیکن اطلاعاتی تیکنالوجی کے انقلاب کے موجودہ عہد میں اب نشر و اشاعت والے ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کی اتنی ضرورت نہیں رہ گئی جتنی سابقہ صدی کے آخری عشرے تک تھی۔اب واقعات اور سانحات رونما ہوتے ہی انٹر نیٹ کے پردے پر غیر مصدقہ خبریں ہزار شکلوں میں پھیل جاتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اندیشے سر اٹھانے لگتے ہیں،جن کو پھیلنے سے روکنا بھی بنیادی صحافتی ذمہ داری ہے۔

یہاں ملازمت سے سبکدوشی سے چند سال پہلے کا ایک ذاتی تجربہ پیش کرنا چاہوں گا۔ایک روزمجھے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کے جرنلزم کے ڈپلومہ کورس میں اردو صحافت کے طلبا کا بطور مہمان مدرس کلاس لینے جانا تھا۔اتفاقاً وقت سے بہت پہلے نکل جانے کی وجہ سے میں پہلے دفتر (یو این آئی) چلا گیا۔ وہاں انگریزی اردو اور ہندی کے اخبارات میں ایک خبر پر نظر پڑی جو اجودھیا معاملے میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی، مسٹر مرلی منوہر جوشی اور محترمہ اوما بھارتی پر عائد الزامات سے متعلق تھی۔ ایک ہی خبر تین زبانوں میں دیکھنے کے بعد ایک اور فرق ابھر کر سامنے آیا۔ اِس فرق نے مجھے زبان، زبان کے بولنے والوں اور ان کی راست اور بالواسطہ ذہنی تربیت کے تعلق سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔اگلے ہی لمحے مجھے اس کے اظہار کا ایک مربوط موقع اس طرح مل گیا کہ جب میں کلاس لینے جے این یو پہنچا تو پتہ چلا کہ ہندی کے مدرس کے نہ آنے کی وجہ سے مجھے ہندی اور اردو دونوں کے صحافتی طلبا سے ایک ہی کلاس میں نصابی طور پر رجوع کرنا ہے۔متعلقہ رُخ پر میں نے طلبا سے پوچھا کہ کیا اُنہیں یاد ہے کہ بچپن میں والدین اکثر یہ سکھاتے ہیں کہ اگر تمہیں کسی نے گالی دی ہے تو اس کی شکایت کرتے (اطلاع دیتے) وقت اُس گالی کو دہراتے نہیں بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ”فلاں نے مجھے گالی دی ہے“؟ حسب توقع بیشتر نے اثبات میں جواب دیا۔اِس سے تحریک پا کر میں نے اُن سے کہا کہ ”جہاں تک میرا خیال ہے اس تربیت میں جو سبق ہے وہ صرف بچپن کیلئے نہیں عمر بھر کیلئے ہے اور اس کا اطلاق ہر تہذیب اور ہر زبان پر ہونا چاہئے“۔اس مختصر لیکن محتاط تمہید کے بعد میں نے طلبا کو بتایا کہ اجودھیا سانحے سے متعلق آج میری نظر سے ایک ہی خبر انگریزی، ہندی اور اردو تینوں زبانوں میں گزری ہے۔ اردو میں خبر ”بابری مسجد“ کے حوالے سے ہے، ہندی میں ”رام مندر“ کے حوالے سے اور انگریزی میں ”اجودھیا ڈِسپیوٹ(تنازعہ)“ کے حوالے سے۔میں نے طلبا سے کہا کہ اِس اظہار خیال کا بہ الفاظ دیگر مقصد یہ بتانا ہے خبر نگار کبھی اپنی ذہنی وابستگی کے اظہار کیلئے خبر کو ذریعہ نہ بنائے۔ اگر وہ اِس پر قادر ہو گیا تو اُس کا قلم ماحول کو سازگار رکھتے ہوئے صحافتی کردار ادا کرنے میں ہمیشہ اُس کا ساتھ دے گا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح گمراہی پھیلانے والے اپنے انداز میں سرگرم ہیں جوابی کارروائی کے تحت دوسرے رخ پر بھی خبروں (نیوز) کی جگہ نظروں (ویوز) کو دے دی جائے۔ خبر کو بطور خبرہی قائم رکھا جائے لیکن اس کی ساتھ ہی اس کی معتبریت کو اس طرح برقرار رکھیں کہ خبر خواہ کیسی بھی ہو، پڑھنے والے کی سوچ کو منفی تحریک نہ دے۔البتہ اُسے تشدد میں ”نقصان“ پر افسوس ہو، مفروضہ حریف کے مارے جانے کی خوشی نہیں۔

موجودہ منظر نامے میں جہاں افواہیں خبروں کو نگلتی جا رہی ہیں اور پورا ماحول بُری طرح متاثر ہے،کسی نہ کسی کو تو تبدیلی کے رُخ پر وہ کار ِ خیر کرنا پڑے گا جو کسی نہ کسی طور نظیر بنے۔ ایسا ہے تو وطن عزیزی میں یہ کام کیوں نہ اردو اخبارات اور جدید اردو نشریاتی گروپ یا اداروں کے ذریعے کیا جائے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر عہد میں زندگی اور محبت پر یقین رکھنے والے لوگ ہی عقائد کے ہاتھوں کمزور معاشرے میں علم کے نام پر وہم پھیلانے کا دھندہ روک پائے ہیں۔ یہ کام بہر حال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہل ہوش و فکر یہ نہ ٹھان لیں کہ اُنہیں سیاسی، سماجی، تہذیبی بشمول صحافتی سرگرمیوں کو تعمیر رُخی بنا کر سڑکوں پرمتصادم عقائد کو بتدریج نجی معاملات میں تبدیل کرنا ہے اور عوامی زندگی کوصرف اور صرف انسانی ضروریات کو سمجھنے اور پورا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

جمہوریت کا چوتھا ستون صحافت بعض ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کو آگے لے جانے میں اپنے کردار کی جو تاریخ رکھتی ہے وہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے موجودہ انقلابی عہد میں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود اگر کچھ ملکوں میں جن میں میری توجہ کا مرکز برصغیر کے ممالک ہیں، سیاسی، سماجی اور مذہبی جبر کے خلاف اردو اخبارات کا رویہ ردعمل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بیشتر نامہ نگار اشتعال انگیز واقعات کو اچھالنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش تک فکری طور پر محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

متحدہ ہندستان کے صحافیوں کو پہلے جہاں اپنی تعمیری سوچ کی وجہ پابند سلاسل ہونا پڑتا تھا اور وہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کے لئے برسر پیکار رہا کرتے تھے، اب وہیں وہ اپنی غیر دوراندیشانہ حرکتوں کی وجہ سے خطے کے غیر صحتمند سیاسی ماحول کے ہتھے چڑھ رہے ہیں۔ یا تو افترا پردازی کی راہ اختیار کر رہے ہیں یا بے ہنگم شور و غل مچاکر کمزورحلقوں کا کیس اور بگاڑ رہے ہیں۔

ایسا نہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں میں سب خیریت ہے اور وہاں صحافت اظہار کی آزادی کی بنیاد پر اپنے معاشروں میں انسانی وسائل کے فروغ، اچھی حکمرانی، معاشرتی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے فروغ کے سلسلے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے تک ہی سرگرم ہے۔ وہاں بھی کچھ ذرائع ابلاغ اظہار کی آزادی کے نام پر مذاہب اور قابلِ احترام مذہبی شخصیات کی بے حرمتی کا ارتکاب کر کے امن کو نقصان پہنچانے اور انسانی اقدار اور حقوق کی پامالی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ وہاں بہرحال ایسی حرکتوں کی یا تو فوری

گرفت ہو جاتی ہے یا اکثریت کی بے توجہی ایسی شرارتوں کو اپنی موت آپ مرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ بدقسمتی سے بر صغیر میں مغرب کے ایسے واقعات کو بھی اخباری کاروبار کا ذریعہ بنا کربعض اشاعتی اور نشریاتی ادارے جذباتی قارئین، سامعین اور ناظرین کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN