عبدالسلام عاصم
اگرچہ صحافت کا بنیادی کام بغیر کسی ابہام کے خبریں منتقل کرنا ہے۔ تاہم ایک ایسے ملک یا خطے میں جہاں قارئین، سامعین اور ناظرین کے ذہنوں کو بعض سماجی، سیاسی اور مذہبی مبلغین نے آلودہ کر دیا ہو، وہاں صحافت سے وابستہ لوگوں کی ذمہ داری کچھ زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں صحافیوں کو کوئی بھی اطلاع عام کرنے سے پہلے ہمیشہ دو بار سوچنا چاہیے۔خبرکی مشمولات،نوعیت،متعلقہ حالات اورممکنہ اثرات کا بھر پور جائزہ لینے کے بعد ہی ایسی کوئی خبر عام کی جائے جس کی بے ہنگم ترسیل تباہی مچا سکتی ہے۔کشیدہ ماحول میں تشدد کی کسی خبر کو عجلت میں اس طرح شائع کہ نشر نہیں کرنا چاہیے جس سے آگاہی کم اور گمراہی پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو۔ آگاہی کا حق ادا کرنے کے لئے تمام اچھی یا بری خبریں اس طرح جاری کی جائیں کہ پڑھنے والوں میں بیداری پیدا ہو، کسی کے خلاف نفرت اور دشمنی نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے بیشتر میڈیا ہاوس اِس محاذ پر ناکام ہیں۔قومی خبر رساں ایجنسیاں اب بھی بہت حد تک بچی ہوئی تھیں لیکن اطلاعاتی تیکنالوجی کے انقلاب کے موجودہ عہد میں اب نشر و اشاعت والے ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کی اتنی ضرورت نہیں رہ گئی جتنی سابقہ صدی کے آخری عشرے تک تھی۔اب واقعات اور سانحات رونما ہوتے ہی انٹر نیٹ کے پردے پر غیر مصدقہ خبریں ہزار شکلوں میں پھیل جاتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اندیشے سر اٹھانے لگتے ہیں،جن کو پھیلنے سے روکنا بھی بنیادی صحافتی ذمہ داری ہے۔
یہاں ملازمت سے سبکدوشی سے چند سال پہلے کا ایک ذاتی تجربہ پیش کرنا چاہوں گا۔ایک روزمجھے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کے جرنلزم کے ڈپلومہ کورس میں اردو صحافت کے طلبا کا بطور مہمان مدرس کلاس لینے جانا تھا۔اتفاقاً وقت سے بہت پہلے نکل جانے کی وجہ سے میں پہلے دفتر (یو این آئی) چلا گیا۔ وہاں انگریزی اردو اور ہندی کے اخبارات میں ایک خبر پر نظر پڑی جو اجودھیا معاملے میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی، مسٹر مرلی منوہر جوشی اور محترمہ اوما بھارتی پر عائد الزامات سے متعلق تھی۔ ایک ہی خبر تین زبانوں میں دیکھنے کے بعد ایک اور فرق ابھر کر سامنے آیا۔ اِس فرق نے مجھے زبان، زبان کے بولنے والوں اور ان کی راست اور بالواسطہ ذہنی تربیت کے تعلق سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔اگلے ہی لمحے مجھے اس کے اظہار کا ایک مربوط موقع اس طرح مل گیا کہ جب میں کلاس لینے جے این یو پہنچا تو پتہ چلا کہ ہندی کے مدرس کے نہ آنے کی وجہ سے مجھے ہندی اور اردو دونوں کے صحافتی طلبا سے ایک ہی کلاس میں نصابی طور پر رجوع کرنا ہے۔متعلقہ رُخ پر میں نے طلبا سے پوچھا کہ کیا اُنہیں یاد ہے کہ بچپن میں والدین اکثر یہ سکھاتے ہیں کہ اگر تمہیں کسی نے گالی دی ہے تو اس کی شکایت کرتے (اطلاع دیتے) وقت اُس گالی کو دہراتے نہیں بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ”فلاں نے مجھے گالی دی ہے“؟ حسب توقع بیشتر نے اثبات میں جواب دیا۔اِس سے تحریک پا کر میں نے اُن سے کہا کہ ”جہاں تک میرا خیال ہے اس تربیت میں جو سبق ہے وہ صرف بچپن کیلئے نہیں عمر بھر کیلئے ہے اور اس کا اطلاق ہر تہذیب اور ہر زبان پر ہونا چاہئے“۔اس مختصر لیکن محتاط تمہید کے بعد میں نے طلبا کو بتایا کہ اجودھیا سانحے سے متعلق آج میری نظر سے ایک ہی خبر انگریزی، ہندی اور اردو تینوں زبانوں میں گزری ہے۔ اردو میں خبر ”بابری مسجد“ کے حوالے سے ہے، ہندی میں ”رام مندر“ کے حوالے سے اور انگریزی میں ”اجودھیا ڈِسپیوٹ(تنازعہ)“ کے حوالے سے۔میں نے طلبا سے کہا کہ اِس اظہار خیال کا بہ الفاظ دیگر مقصد یہ بتانا ہے خبر نگار کبھی اپنی ذہنی وابستگی کے اظہار کیلئے خبر کو ذریعہ نہ بنائے۔ اگر وہ اِس پر قادر ہو گیا تو اُس کا قلم ماحول کو سازگار رکھتے ہوئے صحافتی کردار ادا کرنے میں ہمیشہ اُس کا ساتھ دے گا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح گمراہی پھیلانے والے اپنے انداز میں سرگرم ہیں جوابی کارروائی کے تحت دوسرے رخ پر بھی خبروں (نیوز) کی جگہ نظروں (ویوز) کو دے دی جائے۔ خبر کو بطور خبرہی قائم رکھا جائے لیکن اس کی ساتھ ہی اس کی معتبریت کو اس طرح برقرار رکھیں کہ خبر خواہ کیسی بھی ہو، پڑھنے والے کی سوچ کو منفی تحریک نہ دے۔البتہ اُسے تشدد میں ”نقصان“ پر افسوس ہو، مفروضہ حریف کے مارے جانے کی خوشی نہیں۔
موجودہ منظر نامے میں جہاں افواہیں خبروں کو نگلتی جا رہی ہیں اور پورا ماحول بُری طرح متاثر ہے،کسی نہ کسی کو تو تبدیلی کے رُخ پر وہ کار ِ خیر کرنا پڑے گا جو کسی نہ کسی طور نظیر بنے۔ ایسا ہے تو وطن عزیزی میں یہ کام کیوں نہ اردو اخبارات اور جدید اردو نشریاتی گروپ یا اداروں کے ذریعے کیا جائے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر عہد میں زندگی اور محبت پر یقین رکھنے والے لوگ ہی عقائد کے ہاتھوں کمزور معاشرے میں علم کے نام پر وہم پھیلانے کا دھندہ روک پائے ہیں۔ یہ کام بہر حال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہل ہوش و فکر یہ نہ ٹھان لیں کہ اُنہیں سیاسی، سماجی، تہذیبی بشمول صحافتی سرگرمیوں کو تعمیر رُخی بنا کر سڑکوں پرمتصادم عقائد کو بتدریج نجی معاملات میں تبدیل کرنا ہے اور عوامی زندگی کوصرف اور صرف انسانی ضروریات کو سمجھنے اور پورا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
جمہوریت کا چوتھا ستون صحافت بعض ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کو آگے لے جانے میں اپنے کردار کی جو تاریخ رکھتی ہے وہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے موجودہ انقلابی عہد میں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود اگر کچھ ملکوں میں جن میں میری توجہ کا مرکز برصغیر کے ممالک ہیں، سیاسی، سماجی اور مذہبی جبر کے خلاف اردو اخبارات کا رویہ ردعمل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بیشتر نامہ نگار اشتعال انگیز واقعات کو اچھالنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش تک فکری طور پر محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
متحدہ ہندستان کے صحافیوں کو پہلے جہاں اپنی تعمیری سوچ کی وجہ پابند سلاسل ہونا پڑتا تھا اور وہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کے لئے برسر پیکار رہا کرتے تھے، اب وہیں وہ اپنی غیر دوراندیشانہ حرکتوں کی وجہ سے خطے کے غیر صحتمند سیاسی ماحول کے ہتھے چڑھ رہے ہیں۔ یا تو افترا پردازی کی راہ اختیار کر رہے ہیں یا بے ہنگم شور و غل مچاکر کمزورحلقوں کا کیس اور بگاڑ رہے ہیں۔
ایسا نہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں میں سب خیریت ہے اور وہاں صحافت اظہار کی آزادی کی بنیاد پر اپنے معاشروں میں انسانی وسائل کے فروغ، اچھی حکمرانی، معاشرتی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے فروغ کے سلسلے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے تک ہی سرگرم ہے۔ وہاں بھی کچھ ذرائع ابلاغ اظہار کی آزادی کے نام پر مذاہب اور قابلِ احترام مذہبی شخصیات کی بے حرمتی کا ارتکاب کر کے امن کو نقصان پہنچانے اور انسانی اقدار اور حقوق کی پامالی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ وہاں بہرحال ایسی حرکتوں کی یا تو فوری
گرفت ہو جاتی ہے یا اکثریت کی بے توجہی ایسی شرارتوں کو اپنی موت آپ مرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ بدقسمتی سے بر صغیر میں مغرب کے ایسے واقعات کو بھی اخباری کاروبار کا ذریعہ بنا کربعض اشاعتی اور نشریاتی ادارے جذباتی قارئین، سامعین اور ناظرین کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔










