لکھنؤ :
اترپردیش میں 2022 کےاسمبلی انتخابات سے پہلے پنچایت انتخابات میں اوسط کارکردگی اور کورونا کی دوسری لہر سے پیدا ہوئی صورت حال سے بی جے پی بے حد محتاط ہوگئی ہے، ایسے میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورت حال اور مستقبل کی پالیسی کے خدوخال بنانے کے لیے بی جے پی اور سنگھ کے لیڈروں کے درمیان مسلسل میٹنگیں اور منتھن کا دور جاری ہے۔ دہلی کے بعد لکھنؤ پہنچے آر ایس ایس کے سرکارواہ دتاتریا ہوسبولے، ریاستی آر ایس ایس کے اعلیٰ عہدیداروں سے میٹنگ کی، جو بہت اہم سمجھی جارہی ہے۔
دریں اثناء نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو دہلی طلب کیا گیا تھا جس کے بعد ان قیاس آرائیوں کہ ہوا ملی ہے کہ یوپی میں کھیلا ہونے والا ہے۔
سنگھ سرکارواہ دتاتریہ ہوسبولے اتر پردیش آر ایس ایس کے تمام اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ضلع مئو ورلڈ ڈائیلاگ سینٹر میں اہم میٹنگ کرکے فیلڈ بیک لیا۔ اترپردیش کے موجودہ سیاسی حالات کے مدنظر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کورونا بحران میں لگے داغ کو چھڑانے کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ وہیںسنگھ کے سرکار واہ دتاتریہ ہوسبولے لکھنؤ پہنچ کر میٹنگ کی جس کے بعد سیاسی حالات کا جائزہ لیا ۔
بتادیں کہ اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ ، بی جے پی صدر جے پی نڈا کے ساتھ سنگھ سرکارواہ دتاتریہ ہوسبولے کی اہم میٹنگ ہوئی ، اس میٹنگ میں اترپردیش بی جے پی تنظیم کے سنیل بنسل بھی شامل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی پالیسی کو لے کر چنتن منتھن کیا گیا۔
سنگھ کے ساتھ بی جے پی کے اعلیٰ رہنماؤں کی بیٹھک کے بعد یوپی میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے اور اب لکھنؤ میںمیٹنگوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ دتاتریہ ہوسبولے لکھنؤ میں متعدد میٹنگیں کریں گے۔ مانا جارہا ہے کہ بی جے پی تنظیم سے لےکر حکومت تک میں تبدیلی کے آثار مل رہے ہیں۔
30 مئی تک بی جے پی کے اترپردیش انچارج رادھاموہن سنگھ بھی لکھنؤ پہنچیں گے۔ سنیل بنسل دہلی میں دو دن تک رہنے کے دوران ہوسبولے سے کئی دورکی میٹنگ کیں ۔ مانا جارہا ہے کہ انتخابی تیاری کے لیے وقت کی کمی کو دیکھتے ہوئے پارٹی ہائی کمان کچھ بڑے فیصلے بھی لے سکتا ہے ۔
دراصل سنگھ اور بی جے پی لیڈروں کی دہلی میںہوئی میٹنگ کے بعد جس طرح سے دتاتریہ ہوسبولے لکھنؤ پہنچے اور میٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے ، اس سے کئی طرح کے قیاس لگائے جارہے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ یوپی سرکار کی کابینہ میں توسیع کی جاسکتی ہے،کیونکہ ابھی یوگی کابینہ میں 6 وزارتی عہدے خالی ہیں۔ انتخابی سال کے سبب انہیں جلد ہی بھرا جاسکتا ہے ۔








