غزہ سٹی:
غزہ سٹی میں 50 سالہ ام ماجد الرائیس کواپنی اور اپنے چار بچوں کی اسرائیل کے ہوائی حملے سے جان بچانے کے لیے پڑوسی کے گھر میں پناہ لینی پڑی کیونکہ اسرائیل کے جنگی جہازوں نے ان کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا ہے ۔
الرئیس نے پڑوس کے گھر سے فون پر بتایا ، پورا علاقہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ یہ جیل ہے، آپ کہیں بھی جائیں آپ نشانے پر ہیں۔انہوں نے پڑوس کے گھر میں اپنے نوعمر بیٹے ، بیٹیوں کے ساتھ پناہ لے رکھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بغیر انتباہ کے اسرائیل نے فضائی حملے کئے۔
غزہ میں 20 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں اور یہاں پر فضائی حملوں کو لے کر سائرن یا محفوظ مکان نہیں ہے ، گزشتہ سال میں ہوئے تصادم میں اقوام متحدہ کے عاضی ٹھکانوں تک پر حملہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل نے ُفضائی حملوں کے ذریعہ تین بری عمارتیں مسمار کردی ہے جن میں حماس کے اہم دفاترتھے۔ اسرائیل نے پہلے انتباہ کے لئے فائرنگ کی تاکہ عمارت پرمیں رہنے والے فرار ہوسکیں۔
ایک خاتون نے بتایا کہ ایک اسرائیلی طیارے نے بدھ کے روز ایک دو منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا جس میں اس کا چار سالہ پوتا اور حاملہ بہو فوت ہوگئی۔ام محمد الطلبانی نے اسپتال میں بتایا ، ‘انہوں نے بغیر انتباہ کے بم داغے ۔ گھر میں بچوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔








