پٹنہ :
پٹنہ میں ‘’خان سر جی ایس ریسرچ سینٹر‘ کے ڈائریکٹر خان سر کے اصل نام پر تنازع بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک بڑے طبقے کی جانب سے سوال کھڑے کئے جارہے ہیں، کچھ لوگ ان کا اصل نام امت سنگھ بتا رہا ہے ،حالانکہ ان کی طرف سے اس معاملے پر صفائی دی گئی ہے،لیکن لوگوں کی مخالفت جاری ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ پٹنہ میں رہنے والے خان سر جی ایس کے ٹاپک کو سادہ طریقےسے آسان زبان میں سمجھاتے ہیں۔ یوٹیوب پر لوگ ان کی ویڈیو کو خوب دیکھتے ہیں۔ ابھی 92 لاکھ سے زیادہ ان کے سبسکرائب ہیں۔ 24 اپریل کو ان کے ذریعہ ڈالے گئے ایک ویڈیو کے بعد تنازع شروع ہوگیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے فرانس- پاکستان کے متعلق اور پاکستان میں فرانس کے سفیر کو ملک سے واپس بھیجنے کے لیے ہو رہے مظاہرے کے بارے میں بتایا تھا۔
مظاہرے کی تصویر کو پوائنٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’ای ریلی یہ بے چارہ بچوا ہے۔ اس کو کیا پتہ کہ سفیر کیا چیز ہوتی ہے۔ کوئی پتہ نہیں لیکن فرانس کے سفیر کو باہر لے جائیںگے۔ بابو لوگ تم لوگ پڑھ لو، ابا کے کہنے پر مت آؤ۔ ابا تو پنچر ساٹ ہی رہے ہیں،ایسا ہی تم لوگ بھی کروگے تو بڑا ہو کر تم لوگ بھی پنچر ساٹےگا۔ تو پنچر مت ساٹو ورنہ تم کو تو پتہ ہی ہے کچھ نہیں ہوگا تو چوراہے پر بیٹھ کر میٹ کاٹے گا۔ بتائے یہ عمر ہے بچوں کو یہاں پر لانے کا؟
اس ویڈیو کے بعد سے لوگوں کی طرف سے ان کے نام اور مذہب کو لے کر سوال اٹھائے جانے لگے۔ کچھ لوگوں نے ان کے پرانے ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں امت سنگھ بتایا ، حالانکہ پورے معاملے پر خان سر کا کہنا ہے کہ نام سے کسی کو نہیں جاننا چاہئے۔
خان بس ایک ٹائٹل ہے میرا اصل نام نہیں ہے۔ میں نے اپناپورا نام کبھی نہیں بتایا ۔ ٹائم آئے گا تو سب کو معلوم چل ہی جائے گا۔ نام میں کوئی بہت بڑا راز پوشیدہ نہیں ہے،لیکن ایک ٹرینڈ ہے تو اسے چلنے دیاجائے ۔








