ہاپوڑ:
اترپردیش کے ہاپوڑ میں ایک شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ کورونا مریض نتین (23سالہ) کی علاج کے دوران موت ہوجانے پر 54 ہزار روپے جمع نہ کرنے پر راما میڈیکل کالج انتظامیہ لاش کو یرغمال بنا کر رکھ لیا۔ اس معاملہ میں ڈی ایم ہاپوڑ کی مداخلت کے بعد 35 ہزار روپے لے کر راما اسپتال نے نوجوان کی لاش اس کے لواحقین کے حوالے کیا۔
در اصل ہا پوڑ کے پلکھوہ کے گالند کے رہائشی 23 سالہ نتن گوئل کی راما میڈیکل کالج میں 4 مئی کی دیر رات کووڈ 19-انفیکشن سے موت ہوگئی۔ اگلے دن 5 مئی کو اسپتال انتظامیہ کے ذریعہ متوفی کے والد منوج گوئل کو 54 ہزار روپے کا بل ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ جبکہ متوفی کے والدمنوج گوئل کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ہے تو اسپتال انتظامیہ نےکہاکہ جب تک روپے جمع نہیں کروگے تب تک متوفی کی لاش نہیں دیں گے۔
اس کے بعد دھولانہ کے ایس ڈی ایم اروند دویدی نے اسپتال انتظامیہ سے بات کی اور کہا کہ میت کے علاج کے لئے جو بھی اخراجات ہوئے ہیں ، میں دوں گا ، آپ لاش کولے جانے دیجئے۔ اس پربھی اسپتال انتظامیہ راضی نہیں ہوا اور متوفی کے اہل خانہ سے 35 ہزار روپے وصولنے کے بعد ہی لاش کو اہل خانہ کو سپرد کیا۔ 35 ہزار روپے ملنے تک اسپتال انتظامیہ نے متوفی کی لاش کو اسپتال میں یرغمال بنا کر رکھا تھا۔
اس درمیان راما میڈیکل کالج میں مریضوں کے ساتھ ہوئے بدسلوکی کے معاملے کی جانچ کاحکم ڈی ایم انوج سنگھ نے دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تین کووڈ 19-اسپتال راما میڈیکل کالج ، جی ایس میڈیکل کالج اور سرسوتی میڈیکل کالج میں اب مجسٹریٹ تعینات کردئے گئے ہیں ، جن کا کام اسپتال میں بیڈ، آکسیجن کی فراہمی ، وینٹی لیٹر کے مسائل کے حل سمیت مریضوں کو ایڈمٹ کرانے سے لے کر مریضوں کو ڈسچارج کرانے اور مرنے والوں کی لاشوں کو لواحقین کو سونپے کا ہوگا۔
ایک طرف جہاں یوپی سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ کووڈ19-انفیکشن کے علاج کا پورا خرچ وہ اٹھائے گی تو وہیں دوسری طرف حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے ذریعہ انفیکشن سے مرنے والوں کے لواحقین سے علاج کا پورا خرچ وصولنے تک متوفی کی لاش کو یرغمال بنا کر رکھے جانے کا واقعہ شرمناک ہے۔








