اعظم گڑھ :
اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں دلتوں پر ظلم و ستم کا معاملہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ الزام ہے کہ ایک گاؤں میں رات کےو قت پولیس نے متاثرہ فریق پر ہی ظلم ستم ڈھایا اور ان کے گھر مکانات توڑ ڈالے، یہاں تک متاثرین کے خلاف ہی مقدمہ درج کیا گیا۔ اس معاملے کو لے کر متاثرین نے مخالفت ومظاہرہ شروع کردیا اور ان کے خلاف درج معاملوں کو واپس لینے کی مانگ کی ۔ وہیں اپوزیشن پارٹیوں نے بھی سرکار کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔
یہ معاملہ تھانہ اعظم گڑھ کے رونا پار تھانہ کے ماتحت پلیا گاؤں کاہے ،جہاں دو فریقوں میں آپسی رنجش تھا، جس کے سبب بازار میں دنوں فریقوں کا جھگڑا ہوگیا۔ پولیس وہاں مداخلت کرنے پہنچی، پولیس کی کارروائی کے دوران پلیا کے گرام پردھان اور بھیڑ نے مشتعل ہو کر پولیس پر حملہ کردیا۔ اس وقت تو پولیس نے حالات پر قابو پالیا ، لیکن رات کے وقت پولیس نے دبش دی۔
الزام ہے کہ پولیس نے ایک فریق کی نا تو شکایت درج کی اور اس کے برعکس اس کے ساتھ ہی ظلم وستم اور توڑ پھوڑ کی۔ الزام یہ بھی ہے کہ ان کے گھروں کو پولیس نے توڑ دیا۔ جب وہ کارروائی کی مانگ لے کر تھانہ پہنچے تو ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی ۔ پولیس کارروائی کی مخالفت میں متاثرین فریق کی خواتین دھرنے پر بیٹھی ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ سفاکانہ رویہ اپنایا۔ ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی، بدسلوکی کی گئی ،زیور اور پیسے بھی لوٹ لئے گئے۔ اب متاثرین کے مشتعل مظاہرے کو لے کر سیاست گرما رہی ہے ۔
دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ روناپار کے تحت واقع پلیا گاؤں میں گرام پردھان اور ان کے حامیوں نے ایک ڈاکٹر کی پٹائی کردی تھی۔ جب پولیس جائے واقعہ پر پہنچی تو ان کی کارروائی پر مشتعل ہو کر بھیڑ اور مقامی گرام پردھان نے پولیس حملہ بول دیا۔ پولیس کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پیکٹ کے ایک سپاہی کو سنگین چو ٹ لگی۔ اس دوران پولیس نے متعلقہ دفعات میں مقدمہ درج کرکے ملزمین کی تلاش شروع کردی۔

متاثرین کا الزام ہے کہ پولیس دیر رات پلیا گاؤں پہنچی اور تحقیقات کے نام پر بلڈوزر اور جے سی بی مشینوں سے دلتوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔ اب اس واقعہ کو لے کر گاؤں کے تمام لوگ پولیس پر ظلم وستم کاالزام لگاتے ہوئے دھرنا کررہے ہیں ، جس میں گاؤں کی خواتین باقاعدہ بینر اور پوسٹر لگا کر پولیس پر ہراساں کرنے کاالزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کی مانگ کررہی ہیں۔
پورے واقعے پر اعظم گڑھ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھیر کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ گرام پردھان اور ان کے حامی بازار میں ڈاکٹر کو پیٹ رہے تھے، اطلاع ملنے پر پولیس وہاں پہنچی اور جب پولیس نے کارروائی شروع کی تو بھیڑ اور گرام پردھان حملہ آور ہو گئے، پولیس پر حملہ کردیا ، اس دوران ایک کانسٹیبل کی حالت نازک ہے۔ پولیس پر حملہ قطعی برداشت نہیں کیاجائے گا۔ اہم ملزم فرار ہے ۔ اس کی تلاش جاری ہے ۔ واقعہ کے ملزمین کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ایس پی سدھیر نے کہا کہ اس معاملے میں سیاست ٹھیک نہیں ہے۔









