سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس کے پانچ ملزمان گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو درج ذیل 11 سخت ترین شرائط کے ساتھ ضمانت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ شرائط کوئی رسمی نہیں ہیں بلکہ قومی سلامتی، امن عامہ اور مقدمے کے عمل کی سالمیت کے مفاد میں ٹھوس تحفظ کے طور پر عائد کی گئی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ملزمان کو درج ذیل شرائط پوری کرنے پر رہا کیا جائے گا۔
1-**ہر ملزم کو دو لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ساتھ دو مقامی ضامن پیش کرنے کے بعد رہا کیا جائے گا ۔
2-**ملزم دہلی میں ہی رہیں گے اور ٹرائل کورٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر دہلی نہیں چھوڑیں گے ۔ دہلی چھوڑنے کی درخواست کرتے وقت، ملزم کو وجہ فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی، اور عدالت اس درخواست کی میرٹ پر غور کرے گی۔
3-**ملزمان اپنے پاسپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرائیں گے۔ اگر ان کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں تو وہ اس سلسلے میں حلف نامہ جمع کرائیں گے۔ عدالت نے دہلی حکومت اور پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ملک کے تمام امیگریشن حکام کو مطلع کریں کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی بھی ملزم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
4-**ملزمان اپنا موجودہ پتہ اور ای میل ایڈریس تفتیشی افسر اور ٹرائل کورٹ کو فراہم کریں گے۔ ملزمان ٹرائل کورٹ اور تفتیشی افسر کو سات دن قبل تحریری نوٹس دیئے بغیر اپنی رہائش یا رابطہ نمبر تبدیل نہیں کریں گے۔
5-**تمام ملزمین، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاءالرحمن ، محمد سلیم خان، اور شاداب احمد، ہفتے میں دو بار، پیر اور جمعرات کو صبح 10 بجے سے 12 بجے کے درمیان، دہلی پولیس کمشنر کے ہیڈکوارٹر، جے سنگھ مارگ، نئی دہلی میں کرائم برانچ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے سامنے ذاتی طور پر حاضر ہوں گے، اور اپنی حاضری کو نشان زد کریں گے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر اپنی حاضری کو ایک الگ رجسٹر میں ریکارڈ کرے گا اور ٹرائل کورٹ میں ایک ماہانہ تعمیل رپورٹ جمع کرائے گا، جسے کیس کے اہم ریکارڈ کے ساتھ رکھا جائے گا۔
6-**ملزم کیس سے متعلق کسی گواہ یا شخص سے بالواسطہ یا بلاواسطہ رابطہ یا اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ کیس سے متعلق کسی گروپ یا تنظیم سے وابستہ ہوں گے
7-**ملزم اس مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی بیان یا تحریر نہیں لکھیں گے –
8-ملزم مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک کسی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے (یہاں تقریب کی کوئی تشریح نہیں کی گئی ہے) اور نہ ہی کسی ریلی یا اجتماع سے خطاب کریںگا، چاہے وہ جسمانی ہو یا ورچوئل۔
9-**ملزم کسی بھی قسم کی پوسٹ، ہینڈ بل، پوسٹرز یا بینرزوائرل نہیں کریں گے
10-ملزمان مقدمے کی سماعت میں تعاون کریں گے اور ہر تاریخ پر عدالت میں پیش ہوں گے، جب تک کہ ٹرائل کورٹ انہیں وجہ کی بناء پر حاضری سے استثنیٰ نہ دے دے۔ ملزم کسی ایسے عمل میں ملوث نہیں ہوگا جس سے ٹرائل میں تاخیر ہو۔
11-ملزم مسلسل امن اور اچھے رویے کا مظاہرہ کریں گے، مقدمے کے زیر التوا ہونے کے دوران کسی بھی جرم کی صورت میں استغاثہ کو ٹرائل کورٹ میں ضمانت کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کرنے کی آزادی ہوگی۔ اگر ایسی درخواست دائر کی جاتی ہے تو ٹرائل کورٹ میرٹ پر غور کرے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی کی خلاف ورزی یا اپنی آزادی کا غلط استعمال کرنے کی صورت میں ٹرائل کورٹ کو ملزمان کو سماعت کا موقع دینے کے بعد ضمانت منسوخ کرنے کی آزادی ہوگی۔







