نئی دہلی :
دہلی کی ایک کورٹ نے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران ایک مسلمان شخص کے قتل کے الزام میں سات لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد کئے۔ فسادات کے دوران مسلم شخص مٹھائی خرید کر اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا ۔ جمنا بس اسٹینڈ کے قریب ایک بھیڑ نے لاٹھی – پتھروں سے اس کا قتل کردیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے دفعہ 143 (غیر قانونی جلسہ) ، 147 (فساد) ، 148 (مہلک ہتھیاروں سے فساد) ، 302 (قتل) ، 149 (ایک ہی ارادے کو پورا کرنے کے لیے غیر قانونی جلسہ کے کسی بھی ممبر کے ذریعہ جرم کرنا ) اور 120B (مجرمانہ سازش) کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔
متاثرہ مونش اپنے والد سے مل کر اور مٹھائی لے کر گھر لوٹ رہا تھا۔ اس نے جمنا بس اسٹینڈ کے قریب فساد بھڑکا دیکھا تھا۔ مسلم شناخت ہونے کے بعد ایک بھیڑ نے مونش کا لاٹھی اور پتھروں سے قتل کردیا تھا۔
عدالت نے کہاکہ حالانکہ ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن اس اسٹیج پر استغاثہ گواہ کا چشم دید ثبوت موجود ہے ۔
ملزمین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکلوں کو’تفتیشی ایجنسی نے غلط طریقے سے پھنسایا ہے۔ وہیں پراسیکوشن نے کہا کہ ‘دیال پور تھانہ اسٹیشن کے افسران فسادات کے دوران باقی قانون وانتظام کو پورا کرنے میں مصروف تھے، اس لئے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر ہوئی۔











