نئی دہلی:
جنوبی ہند کے سرسید کے نام سے معروف ،الامین ایجوکیشن موومنٹ کے بانی سیکڑوں تعلیمی وفلاحی اداروں اور سماجی تنظیموں کے روح رواں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا 86سال کی عمر میں آج انتقال ہوگیا۔ ان کی تدفین بعدنماز جمعہ الامین ریزیڈنشیل اسکول بنگلور میں ہوئی۔ ان کے انتقال سے ایسے تمام لوگوں کو دھچکا پہنچا ہے جو تعلیمی وسماجی کاموں میں ان سے رہنمائی اور ہمت لیتے تھے۔ قحط الرجال کے دور میں یقیناً یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ انہوں نے نہ جانے کتنوں کی زندگیاں تعلیمی زیور سے آراستہ کردیں اور اپنے پیچھے اداروں کا ایک جال چھوڑ گئے۔
ان کے انتقال پر سرکردہ شخصیات نے اپنے تاثرات کااظہار کیا ہے ۔ان سے ترغیب لے کر تعلیمی اداروں کی خوبصورت زنجیر بنانے والے تعلیمی محاذ پر سرگرم کرناٹک کی معروف شخصیت شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے فاؤنڈر چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیرنے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں نے ان کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ ابتدائے تعلیم سے ہی میرے ماڈل تھے۔ ان کواپنا آئیڈل سمجھتا ہوں۔ ’روزنامہ خبریں‘ سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر نےکہاکہ ڈاکٹر ممتاز خاں بڑی شخصیت تھے ،سخت محنت کرتے، جو سوچتے وہ کرگزرتےاور پوری طاقت لگادیتے ، کسی کی پروا نہیں کرتے،انہیں باصلاحیت فعال لوگوں کو جوڑ نے کا فن آتا تھا۔ ان کی ورکشاپ کرتے ، ساؤتھ انڈیا کا نارتھ انڈیا سے رابطہ جوڑنے میں ان کا اہم رول رہا ہے ۔ میں نے ان کے نقش قدم چل کر شاہین انسٹی ٹیوٹ بنایا جو آج سایہ دار شجر بن کر اپنی ذمہ داری جو قوم وملت کے تئیں نبھا رہاہے۔
اس کے جلو میں متعدد ادارے چل رہےہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہاکہ حیدر آباد کے ڈاکٹر فخرالدین ،کے ایم عارف الدین بھی بڑا کام کرگئے ، میری خواہش ہے کہ ڈاکٹر مرحوم جن مقاصد کے ساتھ سرگرم تھے وہ سلسلہ ان کے جانشین آگے بڑھاتے رہیں ، ان کا بدل ملنا تومشکل ہے لیکن تعلیمی وسماجی میدانوں میں انہوں نے جو نقوش چھوڑے ہیں ، ان کو اورمستحکم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس ان کے کاز کو فراموش نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم ہماری کارکردگی وترقی سے بہت خوش اورمطمئن تھے اللہ ان کے کاموں کو قبول کرے اور اعلیٰ درجات سے نوازے ۔








