اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ترک ممالک کی تنظیم کا قیام، ایک نئے ورلڈ آرڈر کی نوید

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں, مضامین
A A
0
ترک ممالک کی تنظیم کا قیام، ایک نئے ورلڈ آرڈر کی نوید
95
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: افتخار گیلانی

ترکی کے شہر استنبول میں پچھلے ہفتے ترک زبان بولنے والے ممالک کی تنظیم ترک کونسل کے سربراہان کے اجلاس کے دوران اس تنظیم کو عرب لیگ کی طرز پر باضابط ایک سیاسی فورم کی شکل دی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر بتایا گیا کہ ترک کونسل کا نام تبدیل کرکے ترک ریاستوں کی تنظیم رکھ کر اسکو مزیدفعال بناکر تعلقات کو مزید مضبوط اور نئی راہداریاں قائم کرکے اشتراک کی نئی راہیں ڈھونڈی جائیں گی۔ترک وزیر خارجہ مہولت چاوش اوغلو نے کہا کہ کونسل ایک تبدیلی کے منصوبے سے گزر رہی ہے اور عالمی سیاست میں ایشیا کے عروج کے تناظر میں یہ تنظیم، جس میں ترکی کے علاوہ آذربائیجان، قزاقستان، کرغزیستان، ازبکستان باضابط ممبر ہیں ، ایک اہم رول ادا کریںگے۔ ہنگری اور ترکمانستان کو اس تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ گو کہ ترکمانستان بھی کلی طور پر ترک زبان بولنے والا ملک ہے، مگر ایک پالیسی کے تحت یہ کسی بین الاقوامی فورم کا ممبر بننے سے احتراز کرتا ہے۔ اس فورم میں یوکرائن اور افغانستان کی ممبرشپ پر جلد ہی فیصلہ کیا جائیگا۔ کابل پر طالبان کے قبضہ سے بس چند ماہ قبل ہی سابق اشرف غنی حکومت نے ترک کونسل کی ممبرشپ کی درخواست جمع کروائی تھی۔

ترک کونسل اکتوبر 2009 میں ترکی، آذربائیجان، قازقستان اور کرغزیستان کے نخچیوان معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد قائم ہوئی تھی، تاکہ ترک زبان بولنے والے ممالک کے درمیان گہرے تعلقات اور یکجہتی کو فروغ دے کر، یوریشیائی براعظم بالخصوص وسطی ایشیا اور قفقاز میں تعاون کی راہیں تلاش کی جائیں۔ مگر آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کشیدہ تعلقات ور نگورنو کاراباخ پر آرمینیا کے قبضہ کے بعد ترکی اور آذربائیجان کیلئے کوریڈور تک رسائی بند ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ سے ترکی اور آذربائیجان دیگر ترک زبان بولنے والی وسط ایشیائی ممالک سے کٹ گئے تھے۔ پچھلے سال آرمینیا کو جنگ میں ہرانے اور نگورنو کاراباخ پر قبضہ کے بعد آذربائیجان نے نخچیوان یا زنگذیو کوریڈور پر رسائی حاصل کرکے ترک دنیا کو ایک بار پھر جوڑنے کا کام کردیا ہے۔ ترکی نے توپہلے ہی نخچیوان تک 270ملین ڈالر کی لاگت سے 230کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس لائن کو بعد میں آذربائیجان، ایران کے راستے افغانستان اور پاکستان تک وسعت دی جائیگی۔ چاوش اوغلو نے زور دیا کہ تمام ترک بولنے والے لوگ ایک درخت کی "شاخیں” ہیں۔ انہوں نے نے ترک کونسل کو "خاندان کی کونسل” کہا۔ان کا کہنا تھا ان ممالک کی جڑیں مشترک ہیں، اسلئے ان کو مستقبل کے حوالے سے مشترکہ نقطہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

استنبول میں 2040کے جس وژن پر اتفاق رائے پایا گیا اس میں یورپی یونین کی طرز پر ایک مضبوط و مشترکہ خارجہ پالیسی اپنانے کے ساتھ ساتھ ، سیکورٹی تعاون، آزادانہ تجارت پر عمل درآمد، نقل و حمل کیلئے سرحدیں کھولنا اور رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کی راہیں تلاش کرنا شامل ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار نیول انالیسس میں وسطی ا ایشیائی امو ر کی ماہر عمیدہ ہاشموف کے مطابق یہ فورم کئی اقتصادی منصوبوں کا محور ثابت ہوگی اور یورپی یونین کی طرح یہ جلد ہی ا قتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرکے ایک طاقتور بین الاقوامی فورم کی شکل میں ابھرے گی۔ عالمی جریدے کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق آذربائیجان کے تیل اور گیس کو یورپ پہنچانے کیلئے دو راستے ہیں ، ایک شمال مغربی روس اور دوسرا جنوب مغربی قفقاز یا کاکیشیائی ریاستوں سے ہوکر ترکی سے گزرتا ہے۔ یورپ اپنی گیس کی ضروریات کو یہاں سے پورا کرنے کے لیے مستقبل میں یہاں سے مزید پائپ لائنوں کی تعمیر کا خواہشمند ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے خاص طور پر اس میٹنگ میں ٹرانس کیسپیئن ایسٹ ویسٹ،مڈل کوریڈور کے بارے میں بات کی، جو جارجیا، آذربائیجان اور بحیرہ کیسپیئن سے ہوتا ہوا مستقبل میں ترکمانستان،ازبکستان،کرغزستان کے راستے پر چین کو جوڑے گا۔ یہ کوریڈور موجودہ ا یشیا،یورپ ٹرانس سائبیرین ریل روڈ کا بہتر اور تیز ترین متبادل پیش کریگا۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزییویف نے کہا کہ ان کے ملک کیلئے نقل و حمل اور ٹرانزٹ صلاحیت کو بڑھانا حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہے۔ـ’’ وسطی ایشیا کے راستے اہم عالمی منڈیوں بشمول چین، بھارت اور پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ آذربائیجان اور ترکی سے یورپی ممالک تک رسائی کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ ان سمتوں میں ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی اور لاجسٹک انفراسٹرکچر بنانے کے لیے بڑے پروجیکٹوں کی مشترکہ تکمیل میں ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔‘‘

ایک اندازہ کے مطابق دنیا میں اسوقت 180ملین افراد کی زبان ترک ہے۔ نیز 200ملین افراد کیلئے یہ متبادل زبان ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نصف ترک بولنے والے روس اور سابق سوویت یونین پر مشتمل علاقوں میں آباد ہیں۔ سابق سوویت یونین کے 15 صوبوںمیں تقریباً 40 قومیتیں ترک زبانیں بولتی تھیں۔ روس میں تاتارستان، بشکرستان، نیزتوفالار، خاکس، شور، چلم ترک، سائبیرین تاتار، الٹیائینز، ٹیلنگٹس، ٹیلیوٹس، توبالر، چالکان، کمانڈی، ارمس اور ایران کی سرحد پر چواش قومیںترک زبان بولتی ہیں۔ روسی اکیڈمی آف سائنسز کے لسانیات کے انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی انا ڈیبو کا کہنا ہے کہ ترک زبان بولنے والے ترکی سے لے کر چین تک اور یہاں تک کہ بحر آرکٹک سے لے کر ایران تک زمین کے ایک بڑے حصے میں آباد ہیں۔حتیٰ کہ جموں و کشمیر کا دور افتادوہ اور پسماندہ لداخ خطہ ، جہاں اسوقت چینی اور بھارتی فوج برسرپیکار ہے، ایک صدی قبل تک دنیا سے اس قدر جڑا تھا ، کہ ترکی یہاں کی دوسری زبان تھی۔تاجروں، سیاحوں، جاسوسوں اور سپاہیوں کیلئے ترکستان یعنی سنکیانگ کے شہروں یارقند، خوتان اور کاشغر کے سفر کیلئے لداخ ایک اہم زمینی رابط تھا۔ سرحدوں میں تبدیلی اور لوگوں کے درمیان رابطے کے کمزور ہونے کے ساتھ، ترک زبانوں نے مختلف لہجے اور بولیاں جمع کیں اور آہستہ آہستہ وہ اصل زبان سے الگ ہوگئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ یہ تنظیم اس زبان کا ایک معیار تیار کرکے اس کو سبھی ممالک میں نافذ بھی کروائے۔ ماہرین کے مطابق گو کہ مختلف قومیتوں کے لوگ ترک زبانوں کے مختلف ورژن بولتے ہیں، اور عربی کے برعکس ان کے رسم الخط بھی جدا ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ زبان کا بندھن ان کے درمیان فاصلوں کو ختم کرتا ہے اور ان کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کے لیے ان کی بات چیت کو آسان بناتا ہے۔

ترک ریاستوں کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل بغداد امرئیف کا کہنا ہے کہ دنیا جلد ہی جنیوا اور نیویارک کو بھول جائے گی ۔ کیونکہ ترک کونسل ممالک کے شہر یعنی استنبول، الماتی، آستانہ، تاشقند اور باکو اب تیزی کے ساتھ امن کی تلاش کے لیے تنازعات کے شکار ممالک کے لیے پسندیدہ سفارتی مقامات کے طور پر ابھررہے ہیں۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ، ترک کونسل ممالک جغرافیائی سیاسی پوزیشننگ اور اس سے بھی بڑھ کر دوستانہ فطرت اور رویہ کی وجہ سے بین الاقوامی ثالثی کے مراکز بن چکے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ یہ قازقستان کا دارالحکومت الماتی تھا جس نے 2013 میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران کو جوہری پروگرام پر کسی معاہدہ کو شکل دینے کیلئے اکھٹا کیا تھا۔ ایک تجربہ کار سفارت کار امرئیف، جنہوں نے 2014 سے قازقستان کے دو وزرائے اعظم کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں ہیں، کا کہنا ہے کہ قازقستان نے ہی شام کے بحران میں ملوث اہم کرداروں کو ایک میز پر بیٹھنے پر ایسے وقت مجبور کیا، جب دیگر تمام اقدامات ناکام ہو چکے تھے۔ ترک کونسل کے ارکین کی میزبانی میں کئی امن معاہدوں اور میٹنگوں میں، اہم ترین استنبول عمل تھا جس نے افغانستان پر ہارٹ آف ایشیا ڈائیلاگ، الماتی ایران ڈیل، افغانستان پر تاشقند ڈائیلاگ اور بشکیک (کرغزستان) پروٹوکول کو جنم دیا۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN