نئی دہلی:(ایجنسی)
کسانوں کی تحریک پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ سنیکتکسان مورچہ کے رکن اور کسان لیڈر یوگیندر یادو نے ہفتہ کو کور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد یہ جانکاری دی۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ 22 نومبر کو لکھنؤ میں ہونے والی کسان مہاپنچایت بھی اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد کی جائے گی۔ یہی نہیں 29 نومبر کو طے شدہ شیڈول کے مطابق کسان پارلیمنٹ مارچ کے پلان کو بھی منسوخ نہیں کریں گے۔ یوگیندر یادو سنیکت کسان مورچہ کی کور کمیٹی کے رکن ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو گرو پرو کے موقع پر تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔
یوگیندر یادو نے کہا کہ انہیں یاد نہیں ہے کہ گزشتہ 70 سالوں میں کسانوں نے کبھی اتنی بڑی جیت حاصل کی ہو گی، اسی طرح 7سال میں پہلی بار حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ تاہم بجلی کے ترمیمی بل،پرالی کے بل کا سوال ابھی تک زیر التوا ہے۔ کسان پہلے دن سے ہی کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں۔ کسانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کسانوں کو کچلنے کے واقعہ کے باوجود مرکزی وزیر آزاد گھوم رہے ہیں۔ وزیراعظم قوم سے خطاب میں یہ باتیں بھول گئے ہوں گے لیکن ہم نہیں بھولے اس لیے فی الحال تمام پروگرامز مقررہ وقت پر ہوں گے۔ پارلیمنٹ میں قوانین منسوخ ہوئے تو مزید فیصلہ کیا جائے گا۔
سنیکتکسان مورچہ کے رہنماؤں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، لیکن کہا تھا کہ وہ دہلی کی سرحد پر اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے، جب تک زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے پر مہر نہیں لگ جاتی۔ کسانوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایم ایس پی پر قانونی ضمانت اور بجلی ترمیمی بل جیسے مسائل پر ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا تھا کہ کسان زیر التوا مسائل پر حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
متحدہ کسان مورچہ تقریباً ایک سال سے دہلی کی سرحدوں پر تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ لیکن پی ایم مودی نے کل اعلان کیا کہ حکومت کچھ کسان تنظیموں کو ان قوانین کے فوائد کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے ان قوانین کو واپس لینے کا عمل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں شروع کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یوپی اور پنجاب اسمبلی انتخابات میں شکست کے خوف سے زرعی قوانین کو واپس لینے کا قدم اٹھایا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ایس پی سپریمو اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن لیڈر اس معاملے کو لے کر حکومت کو گھیر چکے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے لکھیم پور کھیری واقعہ میں گھرے مرکزی وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک بار پھر اٹھایا ہے۔










