نئی دہلی :
کانگریس کا دعویٰ ہے کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے کانگریس پارٹی کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ اور پارٹی رہنماؤں کے 5000 سے زائد اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے۔
پارٹی کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا، کے سی وینوگوپال، اجے ماکن ، لوک سبھا میں پارٹی کے وہپ مانیکم ٹیگور کچھ ایسے نام ہیں جن کے اکاؤنٹس کو ٹوئٹر نے بند کردیا ہے۔ ان تمام رہنماؤں پر ٹوئٹر کے قوانین کی تعمیل میں گڑ بڑی کرنےکا الزام ہے۔ ٹوئٹر نے اس لئے یہ ایکشن لیا ہے ۔
ان بڑے ناموں کے علاوہ سابق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ اور مہیلا کانگریس کی صدر سشمتا دیو کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کے مطابق 5000 سے زائد لیڈروں کے اکاؤنٹس کو’تالا‘ لگ گیا ہے ۔ اب ان اکاؤنٹس سے کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی ہے ۔
کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کا ایک سینئر رکن پارلیمنٹ اس مسئلے پر ٹوئٹر سے بات کر رہا ہے ، اور معاملے کو جلد حل کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ کانگریس نے ٹوئٹر کو ایک لیٹر لکھا ہے اور اس تنازع کو جلد ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
کانگریس نے کہا ہے کہ ٹوئٹر کو اکاؤنٹ معطل کرنے کی کارروائی کرنے سے پہلے مرحلہ وار کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ ٹوئٹر کو پہلے خبردار کرنا چاہیے تھا ، پھر ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دینا چاہیے تھا۔
بتادیں کہ راہل گاندھی سمیت کئی کانگریسی لیڈروں نے دہلی میں لڑکی کے ساتھ عصمت دری اورمبینہ قتل کے معاملے میں متاترہ پریوار کی تصویر کو ٹویٹ کیا تھا، جس سے ان کی شناخت ظاہر ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد ٹوئٹر نے پہلے راہل گاندھی کاانکاؤنٹ لاک کیا گیا، اس کے بعدٹوئٹر نے کئی کانگریسی لیڈروں کے اکاؤنٹس کو لاک کردیا۔











