غزہ سے حال ہی میں لوٹنے والے ایک امریکی ڈاکٹر مارک برونر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ میں بھوک اور افلاس کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور وہاں چھوٹے بچے زندہ لاشوں کی مانند دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچے بھوک کی وجہ سے بدحواسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور وہ بالکل زندہ لاشوں جیسے ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر مارک کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے بچوں میں تو ابھی قوت مدافعت کا نظام مکمل طور پر بن بھی نہیں سکتا اس لیے غزہ میں اس عمر کے بچوں کو کسی بھی قسم کا انفیکشن لگ جاتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ بچوں کی آنتیں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کی شدید کمی کی وجہ سے خود بخود ختم ہو رہی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ہزاروں بچے ایسے ہیں جو شدید خطرے سے دوچار ہیں۔خیال رہے کہ غزہ میں غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے 98 بتائی ہے لیکن ڈاکٹر مارک سمجھتے ہیں کہ یہ اصل تعداد سے کم اعداد و شمار ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تباہی کا شکار ہو چکے ہیں وہ اپنے خیموں میں تنہا پڑے ہوئے ہیں اور ہمیں مزید کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔دریں اثنا غزہ کی پٹی میں طبّی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھوک اور غذائی قلت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بچوں سمیت چار مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ غذائی قلت کے باعث مرنے والوں کی تعداد 201 ہو گئی ہے، جن میں 98 بچے بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی صورتحال آئی پی سی، گلوبل فوڈ انسیکیوریٹی انڈیکس کے مطابق فیز 5 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ درجہ بندی کی اعلیٰ ترین سطح ہے، جو قحط کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔







