غازی آباد :
اترپردیش کے غازی آباد میں واقع ڈاسنا دیوی مندر میں سوامی نریش آنند سرسوتی پر جانلیوا حملہ ہوا ہے ۔ نریش آنند سرسوتی پر چاقوؤں سے کئی وار کئے گئے ، جس میں وہ سنگین طور پر زخمی ہوگئے۔ فی الحال علاج کے لیے نجی اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔
یہ وہی ڈاسنا دیوی مندر ہے جہاں کے اہم پجاری یتی نرسنگھا نند سرسوتی پر مسلسل اشتعال انگیز ، خواتین مخالف اور خاص مذہب کے خلاف متنازع بیان دینے کاالزام ہے ۔
مندر کے یتی نرسنگھانند نے بتایا کہ سوامی نریش آنند جی بہار سے آئے تھے ، جو دہلی کے جنتر منتر پر اشونی اپادھیائے کے ایک مظاہرے میں حصہ لینے آئے تھے۔ رات کو کسی نے اس پر حملہ کیا۔ ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ بار بار مجھے ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے، اس مندر کو ٹارگیٹ کیا جا رہاہے ، پولیس آخر ان لوگوں کو کیوں نہیں پکڑا پا رہی ہے ۔ گزشتہ بار جب حملہ ہوا تھا تو ہمارے لوگوں نے انہیں پکڑ کر پولیس کو سونپ دیا تھا ۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈاسنا کے دیوی مندر احاطہ میں سو رہے بہار کے رہنے والے نریش آنند پر چاقوؤں سے جس وقت حملہ کیا گیا اس وقت یتی نرسنگھا نند سرسوتی بھی بغل والے کمرے میں سو رہے تھے ۔ فی الحال اب تک یہ صاف نہیں ہو ا ہے کہ یہ حملہ کس نے اور کیوں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مندر کیمپس میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے، اس لیے اب تک کسی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، فی الحال مندر کے اردگرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی جارہی ہے ۔
پولیس نے کہا کہ سمستی پور کے رہنے والے نریش آنند سرسوتی ڈاسنا مندر میں رکے ہوئے تھے۔ کسی پروگرام میں شامل ہونے کے لیے غازی آباد آئےتھے، رات کے قریب ساڑھے تین بجے کا واقعہ ہے، کسی شخص نے ان پر حملہ کیا،ابھی ان کی حالت ٹھیک ہے، علاج چل رہا ہے ۔ ہم ہر پہلو سے جانچ کررہے ہیں کہ کیا آس پاس کے کسی شخص نے حملہ کیا ہے یا کوئی باہر سے آیا تھا۔ کوئی جانکار بھی ہو سکتا ہے ۔ آس پاس نصب سی سی ٹی وی کی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے۔
بتادیں کہ ابھی حال ہی میں ڈاسنا دیوی مندر میں جاکر پانی پینے کے لیے ایک مسلم بچے کی پٹائی کی ویڈیو سامنے آئی تھی ۔ ساتھ ہی مندر کے باہر بورڈ لگایا گیا ہے کہ یہ مندر ہندوؤ کا مقدس مقام ہے یہاں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے ۔










