گروگرام: (عامر حسین میواتی)
گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے گروگرام میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو لے کر کشیدگی جاری ہے، اس دوران آج بھی موقع پر پہنچ کر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر پولیس انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 30 افراد کو گرفتار کر لیا۔
گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کے صدر الطاف احمد نے کہا کہ بنیاد پرست گروہ گزشتہ دنوں سے مسلم کمیونٹی کے حوالے سے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں کہ نماز پڑھنے والے مسلمان باہر کے لوگ ہیں۔سیکٹر 12 کے نماز جمعہ میں شامل مسلمانوں سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں؟ جس کے جواب میں نمازیوں کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ، ان میں سے تقریباً 100 فیصد مقامی لوگ ہیں جنہوں نے موقع پر ہی ہاتھ اٹھائے اور ایک آواز میں بتایا کہ وہ سیکٹر 12 کے رہنے والے ہیں۔ اور زیادہ تر کاروں کی مرمت کرنے والے اور فیکٹریوں اور محلے کے بازار میں روزانہ کام کرتے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند میوات کے جنرل سکریٹری مولانا صابر قاسمی نے کہا کہ نفرت اور جھوٹ پھیلانا، مسلمانوں کے خلاف نعرے لگانا آئے جمعہ کی نماز میں خلل ڈالنا گروگرام میں بنیاد پرست اور شدت پسند گروہوں کا مرکز بن گیا ہے۔ گڑگاؤں ناگرتا ایکتا منچ کے سربراہ الطاف احمد نے کہا کہ نفرت پھیلانے والوں نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور گڑگاؤں کی انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا۔ انسانیت اور امن کے دشمن سب کے خلاف جھوٹ اور نفرت پھیلا رہے ہیں۔گڑگاؤں کے اس ترقی پسند شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کیا جا رہا ہے۔
شہر مفتی عالم دین مفتی سلیم بنارسی نے کہا کہ ایک بار پھر ہندو تنظیموں کے ایک گروپ کے ارکان جمعہ کی نماز میں خلل ڈالنے آئے۔ جن کو پولس انتظامیہ نے کارروائی کرکے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا ۔
جمعیۃ علماء ہند میوات کے جنرل سکریٹری صابر قاسمی نے کہا کہ گڑگاؤں پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان منصوبہ بند طریقے سے نماز جمعہ ادا کرنے کے عمل کو انجام دیا، جس کے لیے مقامی مسلمانوں نے ضلع انتظامیہ کا شکریہ ادا کر کے راحت کی سانس لی۔ گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کے الطاف احمد نے کہا کہ تقریباً 30 سماج دشمن عناصر، جو عوام میں نفرت پھیلا رہے تھے اور لوگوں کو اکسارہے تھے، پولیس انتظامیہ نے آج موقع سے گرفتار کیا۔ اور اس طرح گروگرام کے سیکٹر 12 میں پرامن طریقے سے نماز ادا کی گئی۔
ادھر، گڑگاؤں کے سیکٹر 47 میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے ایسے ہی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ علاقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ غیر سماجی عناصر یا روہنگیا پناہ گزین علاقہ میں جرائم انجام دینے کے لئے نماز کا استعمال کرتے ہیں۔ اے سی پی امن یادو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مقامی باشندگان کے بیچ اس معاملہ پر کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن اب تک مسئلہ حل نہیں ہو پایا ہے۔









