اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے مثبت اشارے موصول ہو رہے ہیں۔
ترجمان ہانی مرزوق نے بتایا کہ اسرائیل انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ "امریکا نے ہم پر اس جنگ کے دوران کوئی چیز مسلط نہیں کی۔”
"مشکل مذاکرات کیے، مگر جواب حیران کن تھا"
دوسری جانب حماس کے غزہ میں سربراہ خلیل الحیة نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ موجودہ محاصرے اور بھوک کے ماحول میں جنگ بندی مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم نے انتہائی مشکل مذاکرات کیے اور حتی الامکان لچک کا مظاہرہ کیا۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے ثالثوں کی تازہ ترین تجاویز سے اتفاق کیا تھا، لیکن جو کچھ بعد میں پیش آیا، اُس نے ہمیں حیران کر دیا۔ادھر اقوام متحدہ کے امدادی امور کے نائب سربراہ ٹام فلیچر نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے اتوار کو غزہ میں امدادی نقل و حرکت پر عائد کچھ پابندیاں نرم کیں اور امداد کے دائرہ کار کو ایک ہفتے کے لیے بڑھانے کی حمایت کی ہے۔
فلیچر کے مطابق ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 100 سے زائد امدادی ٹرک غزہ میں داخلے کے لیے سرحدی گزرگاہوں پر جمع ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا: "یہ ایک پیش رفت ضرور ہے، لیکن قحط اور صحت کی سنگین بحرانی صورتِ حال کو روکنے کے لیے بہت بڑی مقدار میں امداد درکار ہے۔”یہ سب کچھ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں غزہ کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر سنجیدگی نہ دکھانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔
ادھر غزہ کے شہری شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کے باعث قحط اور غذائی قلت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی محاصرے کے باعث مرکزی راستے بدستور بند ہیں، جس پر اقوام متحدہ اور امدادی ادارے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں








