دوٹوک:قاسم سید
اقوام متحدہ کی طرف سے غزہ کو قحط زدہ قرار دینے اور اسرائیل کی طرف سے پورے غزہ پر قبضہ کرنے کے ۔یے منصوبے کا اعلان ،اس کے پس منظر کے ساتھ گزشتہ دو برسوں میں غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت نے شہر در شہر ملبہ اور ہزاروں شہیدوں کی لاشیں چھوڑ دی ہیں، لیکن اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی بالخصوص امریکہ اب بھی ایک ہی ہدف دہرا رہے ہیں: حماس کا مکمل خاتمہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی حماس اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے، یا یہ بیانیہ صرف مزید تباہی کا جواز ہے؟کیا اسرائیل اپنی نسل کشی کی پالیسی اور غزہ پر ناجائز غیرقانونی قبضے کی منصوبہ بندی کو عالمی سطح برادری کے سامنے جواز یا ڈھال کے طور پر پیش کرتا ہے ؟تاکہ اس کے خلاف نفرت کی جو لہر لندن سے لے کر آسٹریلیا اور اور اس کے کٹر حامی ملکوں میں چل رہی ہے اس پر پانی ڈالا جاسکے ،ابھی حال ہی میں امریکی نائب صدر کے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ،اس کا ہدف حماس کا خاتمہ ہے ٹرمپ یہی بات کہتے ہیں اور اب تو بڑی عیاری کے ساتھ دوریاستی حل کانفرنس جو نیویارک میں ہوئی تھی اس میں شریک عرب اورمسلم ملکوں نے عمغزہ سے حماس کے انخلا ،اس کے مجوزہ نظام حکومت سے علیحدگی اور غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کردیا ہے یہ اسرائیل کے دیرینہ مطالبات ہیں گویا ساری حکومتیں الا ماشاءاللہ حماس کے معاملہ میں ایک پیج پر ہیں
سوال یہ ہے کہ دو سالہ جنگ کے باوجود حماس اب بھی خطرہ ہے؟ ،تو کیا ہے اور کیوں ہیے کیا اس کے بغیر خطہ میں امن ممکن ہے اور کیا ساری دنیا ملے کر ایک چھوٹی سی تنظیم کے خاتمے کے درپے ہے؟؟ پھر پوری قوت لگانے کے باوجود ختم کرنے میں ناکام کیوں ہے ان جیسے سوالوں کا جواب ضروری ہے تاکہ مشرق وسطی کی اتھل پگھل کی گہرائی کو سمجھا جاسکےـ
سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ حماس ایک نظریہ ہے یہ ، محض کوئی عام عسکری گروہ نہیں
حماس کی اصل طاقت اس کے نظریے اور عوامی حمایت میں ہے۔ لوگ ختم کیے جاسکتے ہیں نظریہ نہیں یہ ایک تسلسل کا نام ہے جو کبھی مرتا نہیں شیخ یاسین سے ہمیشہ اور الانوار تک کتنے بڑے بڑے لیڈر ماردیے گیے لیکن حماس وقتہ طور پر لڑکھڑایا تو مگر اس کے وجود پر کوئی اثر نہیں پڑا ابھی خبر آئی تھی کہ وہ پابندی کے ساتھ اپنی سرکار کے ملازمین کو تنخواہیں بانٹ رہا ہے یعنی میکانزم برقرار ہے ـ 2006 کے فلسطینی انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس غزہ کی عملی حکمران بنی، اور اس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کے بجائے مکمل آزادی کا مطالبہ برقرار رکھا۔ اس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈز” نے نہ صرف اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت کی بلکہ 7 اکتوبر 2023 کے "طوفان الاقصیٰ” جیسے آپریشن سے اسرائیلی سکیورٹی بیانیہ کہ وہ ناقابل تسخیر ہے کو ہلاکر رکھ دیا ،یہ بھیانک خواب اسرائیل کے عام شہری کے دماغ سے بھوت کی طرح چمٹ گیا ہے کہ اب وہ محفوظ نہیں رہی سہی کسر ایران نے پوری کردی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل و امریکہ کے لیے حماس کا خاتمہ کیوں ضروری ہے ؟اس کو چند نکات کی روشنی کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے مثلاً
فوجی دباؤ: حماس کی راکٹ صلاحیت اور سرنگوں کا جال اسرائیل کے لیے مستقل خطرہ ہے۔
سیاسی چیلنج: حماس کا وجود کسی بھی امن معاہدے یا نارملائزیشن کو نظریاتی طور پر ناممکن بناتا ہے۔
علاقائی اثرات: حماس ایران، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک کے بیانیے کا حصہ ہے، جسے اسرائیل اور اس کے اتحادی محدود کرنا چاہتے ہیں۔حماس امت کے نظریہ سے جڑی ہے
نظریاتی بیانیہ: یہ ایک اسلام پسند مزاحمتی تحریک ہے، جو فلسطین کے پورے خطے کو آزاد کرانے کے نظریے پر قائم ہے۔ اس نظریے کی جڑیں گہری ہیں، اس لیے تنظیم ختم ہو بھی جائے تو سوچ باقی رہ سکتی ہے۔وہ علاقائی یا جغرافیائی قوم پرستی کو نہیں مانتی بلکہ امت کے مضبوط اسلامی تصور سے جڑی ہے اس کے مخالف فلسطینی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہماری مزاحمت کی سب سے طاقتور علامت ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی یا الفتح بیرونی طاقتوں کی ایک ٹ ہیں ،ان کا عوام میں کوئی اثر ونفوذ نہیں اگر حماس کو غیر مسلح کردیا جائے ،اڈے غزہ سے نکال دیا جائے یا اسے غزہ کے حکومتی امور سے علیحدہ کردیں جیسا کہ اسرائیل وہ اس کے خیر خواہ چاہتے ہیں تو فلسطین مزاحمت سے محروم ہو جائے گا اس کی جڑیں بہت گہری ہیں ،فلسطین کو تباہ برباد ہونے کے باوجود آخر غزہ کی زمین سے حماس کے خلاف بغاوت کیوں نہیں ہوئی یہ سوال سب کو پیشانی کیے ہویے ہے
حماس کا خاتمہ اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادیوں کا مشترکہ ہدف ضرور ہے، مگر یہ ایک سیاسی و سفارتی بیانیہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ عسکری طور پر حماس کو وقتی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن نظریاتی مزاحمت کو ختم کرنا شاید کسی کے بس میں نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس پوری مہم کو ایک نہ ختم ہونے والے تصادم میں بدل دیتی ہے۔
اسرائیل چاہتا ہے کہ غزہ سے ایسا کوئی بھی ڈھانچہ مٹ جائے جو فلسطینی خودمختاری یا مزاحمت کا پرچم بلند کرے۔امریکہ اور مغربی اتحادی اسرائیل کے "دہشت گرد” بیانیے کو قبول کرتے ہیں کیونکہ حماس کو باقی رہنے دینا مزاحمت کے عالمی بیانیے کو تقویت دیتا ہے، جو خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔
خطے کی سیاست:خلیجی اور بعض عرب ممالک (خاص طور پر وہ جو ابراہیم معاہدے یا اسرائیل سے تعلقات چاہتے ہیں) بھی حماس کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ کسی بھی امن معاہدے یا نارملائزیشن کو نظریاتی طور پر ناممکن بناتی ہے۔سعودی عرب تو دستخط کرنے کے قریب تھا کہ سات اکتوبر نے امریکہ ،اسرائیل کے لیے کرایے پر پانی پھیر دیا ،اب پھر ٹرمپ نے ابرہیم کارڈ کا ڈول ڈالا ہے مگر حماس کا بیانیہ عرب عوام کو اپیل کرتا ہے عرب ملکوں کو نہیں اس لیے وہ بھی حماس کے خاتمہ کی خواہش رکھتے ہیں
اسرائیل اور امریکہ کے لیے "حماس کا خاتمہ” ایک عملی مقصد سے زیادہ ایک سیاسی و اخلاقی جواز بھی ہے، تاکہ غزہ پر حملے، محاصرے، اور تباہی کو عالمی سطح پر قبول کرایا جا سکے۔
اس بیانیے کے تحت اسرائیل نہ صرف عسکری کارروائیاں جاری رکھتا ہے بلکہ فلسطین کی خودمختاری کے کسی بھی حقیقی امکان کو مؤخر کرتا ہے۔
حماس کا وجود اسرائیل کے لیے ایک سیکورٹی چیلنج، امریکہ کے لیے ایک خطے میں اثرورسوخ کا مسئلہ، اور کئی عرب حکومتوں کے لیے ایک سیاسی رکاوٹ ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں دو سال کی تباہی کے بعد بھی مسئلہ صرف حماس کے "راکٹ” نہیں بلکہ اس کے نظریے اور عوامی حمایت کا ہے۔ اس لیے اس کو جڑ سے ختم کرنا حقیقت میں تقریباً ناممکن ہے، مگر "خطرے” کا بیانیہ اسرائیل کو غزہ پر مسلسل کارروائی کا جواز فراہم کرتا رہتا ہے۔ جب تک فلسطینی مسئلہ حل نہیں ہوتا، حماس یا اس جیسی کوئی اور مزاحمتی قوت دوبارہ ابھر سکتی ہے۔حماس نے صاف کردیا ہے کہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی یہ نیویارک اعلامیہ کے آرٹیکل گیارہ کی بنیادی شرط ہے ظاہر ہے نہ حماس ہتھیار رکھے گی ،نہ وہ غزہ چھوڑ کر جائے گی اور نہ ہی غزہ پر اپنی گرفت ختم کرنے جو تیار ہوگی دراصل رنگ آف فائر کی سب سے کمزور کڑی ہی سب سے سخت جان اور سب سے طاقتور ثابت ہورہی ہے جب تک یہ موجود ہے ابراہم اکارڈ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے بھلے ہی عرب لیگ نے اپنی چال بدل دی ہو ،اور دشمن کے تمام دشمن ایک پیج پر آگیے ہوں







