چندی گڑھ: (ایجنسی)
کچھ دائیں بازو کی تنظیموں کے لوگوں نے تبدیلی مذہب کا الزام لگاتے ہوئے ہریانہ کے روہتک میں مبینہ طور پر ایک چرچ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔ ہجوم نے الزام لگایا کہ چرچ مذہب تبدیل کر ارہا ہے۔ وہیں پولیس نے کہا کہ انہیں اس طریقہ کے معاملے سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد بھیڑ پر قابو پالیا گیا۔
ساتھ ہی چرچ کے معاون پادری نے کہا کہ لوگ یہاں کسی بھی عبادت گاہ کی طرح عقیدے کے ساتھ آتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی کو یہاں آنے پر مجبور نہیں کیا۔ روہتک کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن منوج کمار نے کہا کہ ہمیں شکایت ملی تھی کہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے۔ لیکن تبدیلی کے حوالے سے کوئی شکایت درج نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات بھی کی ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً چھ سال سے لوگ اتوار اور جمعرات کو چرچ میں دعائیہ اجتماعات منعقد کر تے ہیں۔ چرچ میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ بغیر اجازت کے ہونے والی بھیڑ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اب صورتحال نارمل ہے۔










