زرعی قوانین کی منسوخی کی طرح سی اے اے، این آر سی کو بھی منسوخ کیا جائے
نئی دہلی: (ایجنسی)
جماعت اسلامی ہند تینوں زرعی قوانین جن کے خلاف گزشتہ ایک سال سے ملک بھر میں احتجاج ہورہا تھا کو واپس لینے کے فیصلے کا استقبال کرتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ زرعی قوانین کی منسوخی ضروری تھی۔یہ ہماری جمہوریت اور ملک کے کسانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ ان لوگوں کی بھی کامیابی ہے جنہوں نے عوام مخالف، غریب مخالف اور کسان مخالف قوانین کے خلاف احتجاج میں کسانوں کا ساتھ دیا۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اس غیر منصفانہ قوانین کے خلاف لڑنے والے کسانوں کو بھاری قیمت چکانی پڑی اور سینکڑوں کسانوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی۔ہم مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے لئے مناسب معاوضے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔نیز کالعدم قرار دیئے جانے والے تین قوانین کے علاوہ کسانوں کا ایک دیرینہ مطالبہ ایم ایس پی (فصلوں کی کم از کم قیمت ) کا بھی ہے، اس مطالبے کو بھی حکومت جلد از جلد قبول کرلے۔اگر ان قوانین کو پہلے ہی منسوخ کردیا جاتا تو نقصانات سے بچا جاسکتا تھا۔ کسانوں کے اس احتجاج نے دکھا دیا کہ کس طرح پُرامن احتجاج جمہوری طریقے پر کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ثابت کردیا کہ ملک و معاشرے کے مفادات کے خلاف جانے والے قوانین اور پالیسیوں کے خاتمہ کے لئے سول سوسائٹی قوم کی مدد کرنے میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ کسان بھائیوں اور بہنوں کی ہمت و استقامت قابل تحسین ہے جنہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے بے پناہ مسلسل جدو جہد کیں۔ اس احتجاج میں حکومت کی بے حسی بھی ظاہر ہوگئی جس نے تحریک کو کچلنے کے لئے بے جا طاقت اور ہمہ اقسام طریقوں کا استعمال کیا تھا۔ اب ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دوسرے عوام مخالف اور آئین مخالف قوانین جیسے سی اے اے، این آر سی وغیرہ کو بھی فوری واپس لے۔سی اے اے، این آر سی کا یہ بل جمہوری ملک ہندوستان کے اس بنیادی تصور کے مغائر ہے جس کا تصور ہمارے آئین کے بانیوں نے کیا تھا۔ یہ بل فرقہ وارانہ نفرت کو جنم دیتا ہے۔ہمیںیقین ہے کہ ہندوستان کے عوام اس طرح کی تقسیم کی سیاست کو قبول نہیں کریں گے۔
اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے سلسلے میں بڑھتا ہوا نفرت کا ماحول
جماعت اسلامی ہند ریاست ہریانہ کے گروگرام میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی مخالفت کرنے والے کچھ منظم گروہوں کی حالیہ کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔مسلمانوں کو یہ مسئلہ دراصل اس لئے درپیش ہے کہ 1947 میں تقسیم ہند کے دوران اس علاقے کی تقریباً 19 چھوٹی و بڑی مسجدوں پر بعض افراد نے غیر قانونی قبضہ کرلیا تھا جس کے نتیجے میں مسلمان ان قانونی مساجد میں نماز ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ان مساجد کی باز آبادکاری میں ہریانہ وقف بورڈ ابھی تک ناکام رہا۔اس کی ایک وجہ حکومت کا عدم تعاون بھی ہے۔دوم نئے آباد ہونے والی کالونیوں میں حکومت نے مسجدوں کے لئے کوئی خطہ اراضی منظور نہیں کیا جبکہ یہ شہری ترقی کے قوانین میں شامل ہے۔چنانچہ مسلمان مجبوراً صرف جمعہ کی نماز ٹریفکیا زندگی کے دیگر معمولات میں مداخلت و رخنہ ڈالے بغیر سرکاری کھلے پارکوں میں ادا کررہے ہیں۔جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے حالیہ دنوں گروگرام کا دورہ کیا اور مسئلہ کے پائیدار حل کے لئے ان لوگوں سے ملاقات کی جو پارکوں میں نماز ادا کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وفد نے گردوارے کے ذمہ داروں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے گردوارے میں نماز کی ادائیگی کی پیشکش کی تھی۔اسی طرح ان غیر مسلم بھائیوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے اپنے شیڈس اور پلاٹس کو نماز کی ادائیگی کے لئے پیش کیا تھا۔ صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد جماعت اسلامی ہند نے یہ محسوس کیا ہے کہ چند اشرار نماز جمعہ کی مخالفت کے ذریعہ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مذہبی نفرت الیکشن جیتنے کا آسان اور مؤثر نسخہ بن گیا ہے۔ ہمیںیقین ہے کہ ہمارے ملک کے عوام اس فریب کو بھانپ لیں گے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم حکومت ہریانہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور مسئلے کا جلد از جلد اور دیرپا حل نکالے۔
پریاگ راج میں دلت خاندان کا بے رحمانہ قتل
جماعت اسلامی ہند پریاگ راج میں ایک دلت خاندان، والدین، ان کے بیٹے اور ایک بیٹی کے حالیہ قتل کی مذمت کرتی ہے۔ بیٹی کو قتل کرنے سے پہلے مبینہ طور پر اس نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی گئی تھی۔ ابتدائی ایف آئی آر میں اعلیٰ ذات کی برادری سے تعلق رکھنے والے 11 افراد کو آئی پی سی کی مختلف دفعات اور ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے تحت کلیدی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان گیارہ میں سے آٹھ ملزمان کو گرفتاربھی کیا گیا تھا۔بعد میں پولیس نے اعلیٰ ذات کے تمام مبینہ ملزمین کو چھوڑ دیا اور ایک دلت نوجوان پر جرم کا الزام عائد کردیا۔ جماعت کے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ یہ قتل ریاست میں پولیس اور حکومت کی غیر فعالی کا غماز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے پہلے متاثرین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ وہ ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں۔پریاگ راج کا یہ سانحہئ قتل ریاست اترپردیش میں عصمت دری، قتل، حراست میں قتل، فرضی انکاؤنٹر اور اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے متعدد واقعات میں ایک نیا اضافہ ہے۔
این سی پی سی آر رپورٹ
گزشتہ دنوں حکومت ہند کی وزارت خواتین و خاندانی بہبود کے تحت قائم این سی پی سی آر (نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس) جسے ایک کمیشن کا درجہ حاصل تھا،اس نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔کمیشن کا مقصد یوں تو اقلیتی بچوں کی تعلیم تھا، لیکن اس نے اپنے جائزے کو اقلیتی طبقے کے بچے اور مدارس اسلامیہ پر زیادہ مرکوز کردیا تھا۔یہ اور بات ہے کہ مسلم اداروں کے متعلق کمیشن نے قدرے اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم عیسائی،جین اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں پر کمیشن نے اپنا یہ تاثر پیش کیا کہ ان تین طبقات کے تعلیمی اداروں میں متعلقہ طبقات کے بچے کم تعداد میں زیر تعلیم ہیں۔اس جائزے کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس میں مدارس اسلامیہ اور اس کے نصاب پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔اقلیتی بچوں میں تعلیم کی کمی کا قصوروار مدارس کو قرار دیا گیا ہے۔مرکزی تعلیمی بورڈ،جماعت اسلامی ہند یہ محسوس کرتا ہے کہ این سی پی سی آر حکومت کے تعلیمی محکمے کا جائزہ لینے سے قاصر رہا۔ کیا اقلیتی طلبا ء میں خواندگی کی کم شرح صرف مدارس ہیں؟ جبکہ مدارس شرح خواندگی کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہیں۔حکومت نے ایک جانب اس کا تو جائزہ لیا ہے لیکن اس نے ان مدارس کا جائزہ لینے سے گریز کیا ہے اور آنکھیں بند کرلی جہاں بڑی تعداد دمیں اقلیتی طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ایسے سرکاری مدارس میں اساتذہ کی تعداد بھی مطلوب سے کم ہے اور دیگر سہولیات بھی بڑی حد تک ابتر حالت میں ہیں۔اس کے علاوہ ’شرو شکچھا ابھیان‘ کی مہم نے اقلیتی بچوں کی خواندگیبڑھانے میں کیوں موثر رول ادا نہیں کیا؟۔ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو این سی پی سی آر کی رپورٹ کے مطالعے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس رپورٹ کا از سر نو جائزہ لے۔ مرکزی تعلیمی بورڈ،رپورٹ کے مزید جائزے کے لئے ذمہ داران مدارس اور اقلیتوں کے تعلیمی ماہرین سے مشورہ کرے گا۔










