نئی دہلی :
بھارت جوڑو آندولن کے نام پر بھارت توڑو آندولن چلانے جیسی ذہنیت رکھنے والے کچھ لوگوں نے گزشتہ اتوار کو دہلی میں واقع جنتر منتر پر نفرت انگیز نعرے لگائے۔ دیر سے بیدار ہوئی دہلی پولیس اب تھوڑی تیزہوتی نظر آرہی ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاملے کے ایک اہم ملزم پنکی چودھری کو وہ کیوں نہیں پکڑ پا رہی ہے ۔
’ستیہ ہندی ڈاٹ کام‘ نے اپنی رپورٹ میں آگے لکھا ہے خود کو ہندو رکشا دل کا صدر بتانے والا پنکی چودھری وہ شخص ہے ،جو اس واقعہ کے بعد سے ہی لگاتار ٹی وی چینل پر آکر ان نفرت انگیز بیان دینے والوں کی حمایت کررہاہے ۔
جو کچھ اس کے ذہن میں بھرا گیا ہے ، وہی سب وہ بے خوف ہو کر ان ٹی وی چینلوں پر بول رہاہے ۔ وہ دہلی سے متصل غازی آباد کا رہنے والا ہے اور دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تلاش میں چھاپہ ماری کررہی ہے لیکن پولیس کے اس بیان پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔
اس لئے کیونکہ پنکی چودھری دن بھر ٹی وی چینلوں پر آرہا ہے ۔ وہ کسی ایئر کنڈیشنڈ روم میں بیٹھا نظر آرہا ہے ، اس نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہے، بڑھیا کرسی پر بیٹھا ہے اور جتنی زور سے وہ بول رہا ہے ، اس سے لگتا ہے کہ وہ تینوں وقت کا کھانا بھی کھا رہا ہے اور آرام سے سو بھی رہا ہے ۔
پنکی چودھری کے بے خوف ہو کر بولنے کے انداز سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی کا تحفظ ضرور ہے ۔ ورنہ اتنے بڑے معاملے کے بعد وہ پولیس سے بچنے کے لیے کہیں مرا مرا پھر رہا ہوتا نہ کہ کسی اے سی روم میں بیٹھ کر ان نفرت انگیز نعرے لگانے والوں کی حمایت کررہاہوتا۔
تو آخر وہ ہے کہاں، وہ انٹرنیٹ کا استعمال کررہا ہے تو پولیس آسانی سے اس کے نمبر کو سرویلائنس میں ڈال کر اسے دبوچ سکتی ہے لیکن تین دن بعد بھی وہ پکڑ سے باہر ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ آخر اب تک کیوں باہر ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو ٹی وی چینلوں پر ڈبیٹ کے دوران ہی اسے پوری طرح قانونی مدد دینے کا اعلان کررہے ہیں۔
پنکی چودھری نے گلے میں بھگوا گمچھا ڈالا ہواہے اور وہ ٹی وی چینلوں پر اس بات کا دعویٰ کررہا ہے کہ بھارت جوڑو آندولن والے پروگرام میں جتنے بھی لوگ آئے تھے ، اس کے تھے۔ اس کے بعد بھی قومی راجدھانی کی پولیس اس پر شکنجہ کسنے میں اتنی دیر کیوں کررہی ہے ، یہ سوال ہر کوئی شخص خود سے مرکزی سرکار وہ دہلی پولیس سے پوچھ رہاہے ۔
جنتر منتر پرلوگ ان نفرت انگیز نعروں کو لے کر ملک بھر میں غصہ ہے ۔ جمہوریت اور ملک کے آئین پر اعتماد رکھنے والے لوگ مسلسل ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کررہے ہیں۔











