نئی دہلی:
دہلی ہائی کورٹ نے ہندو سے مسلم بنی ایک خاتون کی حفاظت کرنے کی ہدایت پولیس کو دی ہے ۔ 29 سال کی خاتوں نے کورٹ میں عرضی دائر کرکے اپیل کی تھی کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام مذہب قبول کیا ہے ، لیکن یوپی پولیس،میڈیا اور دوسری تنظیم اسے پریشان کررہی ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے دہلی اور یوپی کی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ جب تک معاملے کی سماعت ریگولیر بنچ نہیں کرتی ، تب تک خاتون، اس کے پریوار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
کورٹ نے ایک طرف عرضی گزار کو سیکورٹی فراہم کرنے کو کہا، تو دوسری طرف سرکاری ایجنسیوں کو خاتون یا اس کے پریوار کے ممبروں سے پوچھ گچھ کرنے پر روک بھی لگا دی۔ دہلی پولیس کی جانب سے وکیل نے کہاکہ عرضی گزار کے ذریعہ اس کا کوئی ایڈریس نہیں دیا گیا ہے ، نہ ہی کوئی رابطہ نمبر ہے جس کے ذریعہ ان سے رابطہ کیا جائے۔ جواب میں خاتون کی وکیل نے کہاکہ ڈر کی وجہ سے خاتون کو بار بار اپنی جگہ بدلنی پڑ رہی ہے ۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس معاملے میں میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے گائڈ لائن بھی جاری کردی۔ لائیو لاء ڈاٹ کام کی خبرکے مطابق کورٹ نے کہاکہ میڈیا چینلوں (الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور وجوئل میڈیا سمیت ) کو ہدایت دی جائے کہ عرضی گزار کے تعلق سے کوئی بھی بدنیتی پر مبنی مواد شائع نہ کریںاور اس کے ذاتی تفصیلات کا انکشاف نہ کریں، اگر پہلے سے ایسا کیا گیا ہے تو اسے فوراً اثر سے ہٹا یا جاسکتا ہے ۔
بتادیں کہ درخواست میں دہلی پولیس کمشنر ، جامعہ نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ، دہلی حکومت ، یوپی پولیس کے ڈی جی پی اور یوپی سرکار کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت 5 جولائی کو ہوگی۔









