اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تقسیم ہند کے لیے ساورکر کتنے ذمہ دار ؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تقسیم ہند کے لیے ساورکر کتنے ذمہ دار ؟
229
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: مکیش کمار

تقسیم ہند کے بعد سے اس کے ذمہ دار افراد اور تنظیموں کی فہرست بنانے کا عمل جاری ہے۔ نہرو اور کانگریس کی مخالفت کی سیاست کرنے والوں نے اس کام میں سب سے زیادہ فعال کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے مجرموں میں بھی یہ دونوں نام سب سے زیادہ لیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد محمد علی جناح اور برطانوی حکومت کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس ہولناک حادثے میں ان سب کا کردار ہوسکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑے مجرم بچ نکلتے ہیں اور ان میں سے ایک ونائک دامودر ساورکر تھے۔

ساورکر کے ہندوتوا ازم کے اصولوں اور ان کی قیادت میں ہندو مہاسبھا نے ایسے حالات پیدا کرنے کا کام کیا جس میں ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔

دو قومی نظریہ کے لیے اکثر یا تو بدنیتی سے یا نادانی سے جناح سے منسوب کیا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے اسے صرف استعمال کیا اور وہ بہت بعد میں۔ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، یہ اصولی طور پر وضع کرنے والے اور کوئی نہیں ساورکر تھے۔ ہندوتوا لفظ بھلےہی 1892 میں چندر ناتھ بسو نے وضع کیا تھا مگر اسے نسلی بنیادی پر بیان کرنے کا کام ساورکر کا ہی تھا۔

اپنی کتاب ہندوتوا ( ایسنسیل آف ہندو ازم) میں انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ صرف ہندو ہی بھارت کی سرزمین کے وفادار رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کا آبائی وطن اور مقدس سرزمین ہے۔ انہوں نے ہندوؤں کے زیر تسلط ایک ہندو راشٹر کا تصور پیش کیا جس میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر رہنا تھا۔ واضح طور پر مسلمانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ ہندوتوا کے اس ایجنڈے نے ڈرا دیا۔

مسلم نیشنلزم

تاہم دوسری طرف مسلم قوم پرستی بھی سر اٹھا رہی تھی۔ سرسید پہلے بھی ایسے خیالات اور خدشات کا اظہار کر چکے تھے۔ لیکن جب اکثریتی طبقے کے ایک بڑے لیڈر کی طرف سے ایسے تصورات پیش کیے جانے لگے اور ہر طرف اس کی بازگشت سنائی دینے لگی تو مسلمانوں میں عدم تحفظ بڑھنے لگا، انہیں ہندوؤں کی غلامی کی حقیقت محسوس ہونے لگی۔

1940 تک یہ مسلم عوام میں جڑ پکڑ چکا تھا اور جب جناح نے پاکستان کا مطالبہ کیا تو انہیں حمایت ملنا شروع ہوگئی۔

لیکن ساورکر نے کتاب لکھنا بند نہیں کیا۔ رتناگیری میں قیام کی پابندیوں سے آزاد ہو کر جب انہوں نے 1937 میں ہندو مہاسبھا کی باگ ڈور سنبھالی تو انہوں نے اپنے خیالات کو اور زیادہ زور وشور سے اٹھانا شروع کیا۔ خیال رہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا قیام 1925 میں ہوچکا تھا اور وہ مسلسل وہی تشہیر کر رہا تھا جو ساورکر چاہتے تھے ۔ ہیڈگیوار مسلم مخالفت کےذریعہ دو قومی اصول کی بنیاد پر سنگھ کی توسیعکررہے تھے ۔

ہندو راشٹر واد

یہی نہیں، ہندو راشٹر واد کی عسکری کاری بھی ہو رہی تھی۔ سنگھ شاخوں میں لاٹھی چلانے اور دوسرے ہتھیاروں کی تربیت کا پروگرام چلا رہا تھا۔ ساورکر ہندوؤں کی عسکریت پسندی کے حامی تھے۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ ہندوؤں کو جارحانہ ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی واضح تھا کہ وہ اس جارحیت کو کس کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے۔

معافی نامہ بتاتے ہیں کہ ساورکر نے قید میں رہتے ہوئے مکمل طور پر انگریزوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے، اس لیے وہ ہندوستان کو ان سے آزاد کرانے کے لیے کسی لڑائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اس کے برعکس جیل سے رہائی کے بعد اس نے انگریزوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔ انہوں نے لاکھوں لوگوں کو نیتا جی سبھاش کی آزاد ہند فوج کے خلاف لڑنے کے لیے برطانوی بھرتی مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی۔

تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی

دراصل ساورکر نےتقسیم ہند کے لیے کئی طریقوں سے کام کیا۔ ایک طرف وہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر ماحول بنا رہے تھے۔ دوسری طرف وہ انگریزوں کے ایجنٹوں کی طرح کام کر رہے تھے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انگریزوں کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ انگریز ہندو راشٹر واد کے ساتھ ساتھ مسلم قوم پرستی کو ہوا دے رہے تھے۔ اس نے دونوں کے درمیان مقابلہ بھی پیدا کر دیا۔ دونوں قوم پرستی برطانوی حکومت کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے اور تقسیم کے لیے میدان تیار کر رہے تھے۔

تیسرا بڑا کام جو ساورکر نے تقسیم کے لیے کیا وہ تھا ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کرنے والی قوتوں کو کمزور کرنا۔ اس لیے وہ کانگریس کے خلاف تھے، کمیونسٹوں کے خلاف تھے اور سب سے بڑھ کر گاندھی کے خلاف تھے۔

گاندھی کے تئیں ان کی مخالفت اور نفرت اس قدر تھی کہ ان پر ان کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگا اور وہ جیل چلے گئے۔

معروف اخبار میں شائع ہونے والا کارٹون یاد رکیجئے جس میں راون کے دس سروں میں سے ایک گاندھی کا تھا۔ اس میں نہرو، پٹیل، مولانا آزاد، سبھاش چندر بوس کے سر بھی دکھائے گئے تھے اور ان پر تیر چلانے والوں میں کون کون تھے، یہ بھی قابل غور ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ گاندھی پر تمام مہلک حملے ہندوتواوادیوں کی طرف سے کیے گئے تھے۔

ہندوستانی قوم پرستوں پر ساورکروادی ہندوتوا وادیوں کے ان حملوں نے قومی یکجہتی کے نظریہ کو گہرا نقصان پہنچایا اور کمزور کیا۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں کانگریس کا اعتماد اٹھ گیا۔ انہیں لگنے لگا کہ ملک کے آزاد ہونے کے بعد ہندوتوا انہیں سکون سے نہیں رہنے دیں گے۔ اس کے نتیجے میں مسلم لیگ جسے 1936 کے انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، مضبوط ہوتی چلی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندو اور مسلم دونوں قوم پرستی بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں نے مل کر تین ریاستوں میں حکومتیں بنا لیں۔ یہی نہیں سندھ اسمبلی نے پاکستان کے حق میں قرارداد بھی منظور کی تھی۔ یعنی دونوں قوم پرستی ہندوستان کی تقسیم پر متفق تھی اور اسے تشکیل بھی دے رہی تھی۔

مسلم لیگ کا کردار

ساورکر کی ہندو سبھا اور گولوالکر کی قیادت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے نتیجے میں 1946 تک فرقہ وارانہ تشدد کا دور شروع ہوا۔ یقیناً اس میں مسلم لیگ کا بھی بڑا کردار تھا۔ یہ تشدد بڑے پیمانے پر پھیل گیا، جس کی وجہ سے کانگریس قیادت کے پاس تقسیم کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔

خیال رہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی تقسیم کے منصوبے کو آگے بڑھانے پر تلے ہوئے تھے۔

یہی وہ تشدد تھا جس کے سامنے نہرو-پٹیل کو ہتھیار ڈالنا پڑ گیا تھا۔ گاندھی کے یہ کہنے کے باوجود کہ تقسیم ان کی لاش پر ہوگی، وہ تقسیم کو نہیں روک سکے، پھر یہ بھی اسی فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے ہوا جس کا اصل ذریعہ ہندوتوا اور مسلم قوم پرستی کی طاقتیں تھیں۔ ان میں سے بہت زیادہ الزام اکثریتی معاشرے کو بھڑکانے والوں کو دینا چاہیے۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس تشدد کے پیچھے کون لوگ تھے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ گاندھی جی کو مارنے والا کون تھا، جس نے اس تشدد کو روکنے کے لیے ان کی جان پر کھیلا۔ یہ واضح ہے کہ تقسیم کے پیچھے ساورکر ایک بڑا کردار تھا جس پر بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ اس غفلت نے بھی آج ملک کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جس سے آگے نفرت اور تشدد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

(بشکریہ:ستیہ ہندی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN