فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں غذائی قلت اور خوراک کی شدید کمی کے باعث 5 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ علاقے میں انسانی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
صحت سے متعلق دستیاب اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی یہ تمام اموات بالغ افراد میں ہوئیں۔ اس طرح 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 180 ہو گئی ہے، جن میں 93 بچے شامل ہیں۔ یہ بات فلسطینی تخمینوں میں بتائی گئیتقریباً 24 لاکھ کی آبادی والی غزہ کی پٹی میں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کا سنگین بحران جاری ہے، جب کہ مارچ کے اوائل سے سرحدی گزرگاہوں کی تقریباً مکمل بندش کے بعد انسانی امداد کی فراہمی پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مارچ سے جون کے درمیان 5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کے کیسز دو گنا ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ رسد میں شدید کمی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ غزہ شہر میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، اور امداد کی راہ میں رکاوٹیں اور مسلسل محاصرہ صحت کی صورتِ حال کو مزید خراب کر رہے ہیں اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اب تک 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد افراد جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں، ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
بین الاقوامی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ انسانی امداد کی سطح میں کمی اور بنیادی اشیائے ضرورت کی ترسیل پر عائد پابندیاں لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جب کہ جنگ بندی اور محفوظ انسانی راہ داریوں کے قیام کے لیے بار بار اپیلیں کی جا رہی ہیں








