صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگ بندی بات چیت سے نکلنے کے بعد میں نہیں جانتا اب غزہ میں کیا ہوگا۔اسکاٹ لینڈ میں یورپی کمیشن کی سربراہ سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کو واپس نہیں کرنا چاہتی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کے بارے میں اسرائیل ہی فیصلہ کرے گا، ہم دیکھیں گے کہ غزہ میں کیا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے غزہ امداد کے لیے 60 ملین ڈالر دیے ہیں، امریکا غزہ میں مزید امداد بھجوائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کا امکان ففٹی ففٹی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ یورپی یونین کے پاس تجارتی معاہدے پر پہنچنے کا بہت اچھا موقع ہے، چین کے ساتھ بھی تجارتی معاہدہ کرنے کے قریب ہیں
فوجی کارروائی جاری رکھیں گے نیتن یاہو::اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔غزہ کے کچھ علاقوں پر حملوں میں وقفے کے اعلان کے بعد نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنا مقصد حاصل کریں گے اور حماس کو تباہ کر کے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ حماس کو شکست دینے اور یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے جنگ وسیع کرنے کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے ہیں
سینکڑوں اسرائیلی ماہرین تعلیم کا غزہ میں مظالم کے خاتمے اور امداد کی بحالی کا مطالبہ:اسرائیل کے 3 سو سے زائد ماہرینِ تعلیم نے غزہ میں مظالم کے خاتمے اور امداد کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔تل ابیب سے اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی ماہرینِ تعلیم نے اپنے پیغام میں اسرائیلی حکومت، فوج اور عوام کو مخاطب کیا۔اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ماہرینِ تعلیم نے کہا ہے کہ ہماری طرف سے کیے جانے والے اقدامات عالمی پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں، ہم اس پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے










