بارہ بنکی : (ایجنسی)
بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر نریندر مودی 2024 تک ملک کے وزیر اعظم بنے رہے تو یہ ملک بک جائے گا۔ بارہ بنکی میں بھارتیہ کسان یونین کی سالانہ اجتماعی شادی تقریب میں پہنچے ٹکیت نے لکھیم پور کھیری تشدد کیس اور زرعی قوانین پر مرکز کی نریندر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولے۔
نیوز 24 کے مطابق ٹکیت نے مودی حکومت پرنشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ ملک کا کسان اس سرکار کو 10 میں سے زیرو نمبر دے گا۔ انہوں نے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں مرکزی وزیرمملکت برائےداخلہ کے بیٹے آشیش مشرا کی گرفتاری پر طنز کستے ہوئے کہاکہ یہ گرفتاری ریڈکارپٹ پر کی گئی ہے ۔
ٹکیت نے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کا استعفیٰ لیا جانا چاہیے۔ انہیں گرفتار کرکے آگرہ جیل میں بند کیا جائے۔ ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر اجے مشرا نے استعفیٰ نہیں دیا تو کسان اس کے لیے احتجاج کریں گے۔ ٹکیت نے کہا کہ 26
اکتوبر کو بھارتیہ کسان یونین لکھنؤ میں ایک بڑی پنچایت منعقد کرنے جارہی ہے۔ وہاں اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ٹکیت نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں کاروں کے ایک قافلے نے چار کسانوں کو روند دیا، جس کے جواب میں بی جے پی کے دو کارکن ہلاک ہوئے۔ یہ ایکشن کا ری ایکشن تھا۔ وہ قتل میں شامل لوگوں کو مجرم نہیں سمجھتے۔ کوئلے کی کمی کے سبب بلیک آؤٹ کے امکان پر ٹکیت نے کہا کہ سرکار بجلی کو پرائیویٹ ہاتھوں میں بیچنے والی ہے۔ جس کے بعد ریٹ بھی بڑھا دیئے جائیں گے۔ 7 روپے یونٹ بجلی کے دام بڑھا کر 15 روپے فی یونٹ کر دئے جائیں گے ۔ یہ سب سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنیکت کسان مورچہ نے لکھیم پور کھیری تشدد کی تحقیقات کے لیے یوگی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا ہے۔ مورچہ نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ 18 اکتوبر کو ملک گیر ریل روکو احتجاج کی کال دیں گے۔









