نئی دہلی:
دہلی پولیس نے ایسے گینگ کا پردہ فاش کیاہے،جو کورونا کے قہر کے دوران پریشان لوگوں کو آکسیجن سلنڈر دینے کے نام پر پیسے اینٹھ رہا تھا۔ اس گینگ نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران تقریباً 100 سے زیادہ لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کرکے کروڑوں روپے کی ٹھگی کی ۔ دہلی پولیس نے بہار کے نالندہ سے آرگنائز طریقے سے آپریٹر ہو رہے اس گینگ کے 4 لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ کئی بینک اکاؤنٹس کو سیز کیا ہے۔ تفتیش کے دوران ایک کروڑ روپے کا لین دین پکڑا گیا ہے ۔
دہلی پولیس کرائم برانچ کے مطابق بہار کے نالندہ سے دہلی این آر سی سمیت ممبئی جیسے شہروں میں کورونا پازیٹیو مریضوں کے پریواروں کے تقریباً 200 لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کی واردات کو انجام دیا گیا ۔ گینگ کا سرغنہ چھوٹو چودھری ہے، لہٰذا بہار میں اس گینگ کو چھوٹو چودھری گینگ کے نام سے جاناجاتا ہے ۔
یہ گینگ جھارکھنڈ کے جام تاڑا کی طرز پر بہار کے نالندہ میں بیس بناکر ملک بھر میں آکسیجن کے لیے پریشان لوگوں کو ٹارگیٹ کر رہا تھا۔ دہلی پولیس کو ایک شخص نے شکایت کی تھی کہ اس کے پریوار کاایک ممبر دہلی دین دیال اسپتال میں بھرتی تھا، انہیں آکسیجن سلنڈر کی ضرورت تھی، انہیں سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک نمبر ملا۔
شکایت میں اس شخص نے بتایا کہ اس نمبر پر بات کرنے کے بعد سامنے والے شخص نےآکسیجن سلنڈر دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے PTMپر پیسوں کی ڈیمانڈ کی۔ دو قسطوں میں پیسے دینے کے باوجود سلنڈر نہیں ملا، جس کے بعد متاثرہ شخص نے دہلی پولیس کو شکایت کی۔ دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے جانچ شروع کی۔
تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلاکہ یہ گینگ بہار سے بڑے پیمانے پر سائبر فراڈ کی واردات کو انجام دے رہا ہے ۔ جس کے بعد دہلی پولیس کرائم برانچ کی ٹیم بہار کے نالندہ علاقے میں چھاپہ مارکارروائی شروع کردی اور دیپک، پنکج ،شرون اور متھلیش کو گرفتار کیا۔ تفتیش میں ملزمین نے انکشاف کیاکہ ان کا سرغنہ چھوٹوچودھری ہے۔
بہار کے نالندہ علاقے کا رہائشی چھوٹو چودھری گائوں کے لڑکوں کو عیش کی زندگی اور جلد پیسے کمانے کا لالچ دے کر اپنے گینگ میں بھرتی کرتا ہے، اس کے بعد ان کے ذریعہ سائبر فراڈ کے دھندے کو انجام دیتا ہے ۔ چھوٹو چودھری کے گینگ میں 200 سے 300 لوگ شامل ہے۔
پولیس کے مطابق چھوٹو چودھری گینگ پہلے فلپ کارڈ فون اینڈ فرنٹ جیسے پرانے طریقے سے سائبر کرائم کی واردات کو انجام دیتا تھا، لیکن کورونا انفیکشن کے دور میں آکسیجن کی کمی جیسے بحران کو اس گینگ نے موقع کے طور پر لیا اور لوگوںکو ٹھگنے میں مصروف ہوگئے۔
تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گینگ ایک پیغام تیار کرتا تھا ، جس میں فون نمبر لکھا ہوا تھا ، وہ اس پیغام کو سوشل میڈیا پر گردش کرتے تھے ، جب ضرورت مند افراد ان نمبروں پر آکسیجن کے لئے کال کرتے تھے تویہ 30 ہزار سے لے کر 80 ہزار روپے تک کی ڈیمانڈ کرتے ، متاثرہ شخص پیسے ایڈوانس میں دیتا، اس کے بعد یہ گینگ اپنا موبائل بند کردیتے۔
گینگ دو الگ الگ حصوں میں بٹا ہوا تھا پہلے گینگ کا کام مارکیٹنگ کرنا، کال اٹینڈ کرنا جبکہ دوسرے گینگ کا کام دہلی اور ممبئی جیسے شہروںمیں دوسروں کے نام سے اکاؤنٹ کھلوانا ہوتا تھا۔ اکاؤنٹ دوسروں کاہوتا لیکن اس میں موبائل نمبر یہ اپنا رجسٹرڈ کرواتے تھے، جیسے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا بہار میں بیٹھا گینگ پیسے فوراً نکال لیتا تھا۔
معاملہ اگر پولیس کے پاس جاتا بھی تو پولیس اکاؤنٹ ہولڈر کے پاس دہلی یا ممبئی کے پتہ پر پہنچتی تھی،جبکہ پورا دھندا تو بہار کے نالندہ سے آپریٹر ہو رہا تھا۔ پولیس نے ملزمین کے پاس سے 21 موبائل فون، 23 اے ٹی ایم کارڈ، 22 فرضی موبائل سیم کارڈ، بینک اکاؤنٹ سے متعلق دستاویز، بینک کے پاس بک برآمد کی ہے۔








