برطانوی ڈاکٹر نک مینارڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی نوجوانوں کے مخصوص اعضاء کو نشانہ بنارہی ہے۔
ڈاکٹر نک مینارڈ حال ہی میں تیسری مرتبہ غزہ کا دورہ کرکے واپس اپنے ملک پہنچے اور انہوں نے وہاں پر اسرائیلی فوج کے مظالم کا آنکھوں دیکھا حال بتادیا۔عرب میڈیا کے مطابق برطانوی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی باقاعدگی سے فلسطینی نوجوانوں کے جسم کے مخصوص حصوں کو نشانہ بناتے ہیں، جن میں سینہ ، پیٹ اور جنسی اعضاء شامل ہیں ـالجزیرہ سے گفتگو کے دوران برطانوی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ‘انہیں اان کے ساتھی یورولوجسٹ نے بتایا کہ 4 کم عمر لڑکوں کو اسپتال لایا گیا تھا، اسرائیلی فوجیوں نے ان لڑکوں کے مخصوص اعضاء پر گولیاں ماری تھیں۔ڈاکٹر نک مینارڈ کا کہنا تھا کہ "یہ ایک واضح پیٹرن ہے، جسے ہم اپنی اپنی میڈیکل فیلڈز میں دیکھ رہے ہیں اور اس کی تصدیق ایمرجنسی وارڈ کے ڈاکٹروں نے بھی کی ہے جو ان مریضوں کو ابتدائی طور پر دیکھتے ہیں۔”برطانوی ڈاکٹر نے اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے ان مظالم کو خوفناک قرار رجحان قرار دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، آج صبح سے اب تک اسرائیل نے 54 افراد کو شہید کردیا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور طبی ذرائع کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 64 ہزار 231 افراد شہید اور 1 لاکھ 61 ہزار 583 زخمی ہو چکے
فلسطین کو تسلیم کرنے سے مسائل بڑھ جائیں گے: دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا نے تمام ممالک کو بتا دیا ہے کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے مسائل بڑھ جائیں گے۔مارکو روبیو نے ایکواڈور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو کہا آپ لوگوں کی فلسطین کو تسلیم کرنے والی باتیں غلط اور غیر حقیقی ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ان ممالک کو بتایا اگر ایسا کریں گے تو بڑے مسائل پیدا ہوں گے، ردعمل آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح غزہ میں جنگ بندی حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا، ایسا کرنے سے غزہ میں جاری کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے











