اردو
हिन्दी
اگست 17, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جمعیۃ علماء اور آر ایس ایس

11 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Debate over Jamiat Ulama and RSS relations
2
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

( ممبئی اردو نیوز کا اداریہ)
ہندوستان کی تاریخ میں اگر دو ایسی تنظیموں کا ذکر کیا جائے جنہوں نے اپنے اپنے دائرۂ فکر اور نظریات کے مطابق گزشتہ سو برسوں میں سب سے گہرا اثر ڈالا ہے، تو وہ ہیں جمعیۃ علماء ہند اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)۔ دونوں کا قیام قریب قریب ایک ہی زمانے میں عمل میں آیا، دونوں نے اپنے اپنے طور پر قوم کو منظم کرنے کی کوشش کی، مگر دونوں کے مقاصد، طریقۂ کار اور اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔جمعیۃ علماء ہند کا قیام 1919 میں عمل میں آیا۔ اس وقت پورا ملک انگریزوں کی غلامی سے نجات کی جدوجہد میں مصروف تھا۔ جمعیۃ نے علماء دیوبند کی قیادت میں تحریک آزادی کا ساتھ دیا اور گاندھی جی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھا۔ ان کا مقصد ہندوستان کو آزاد کرانا، ملک کی کثرت میں وحدت کی حفاظت کرنا اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو باقی رکھتے ہوئے قومی یکجہتی میں کردار ادا کرنا تھا۔اس کے برعکس آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا۔ اس کا مقصد انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ ہندو قوم پرستی کے نظریے پر مبنی ایک "ہندو راشٹر” کی تشکیل تھا۔ ڈاکٹر ہیڈگیوار اور گولوالکر جیسے رہنماؤں نے صاف صاف کہا کہ اس ملک میں مسلمان اور عیسائی باہر سے آئے ہیں اور انہیں یا تو ہندو تہذیب میں ضم ہونا ہوگا یا پھر دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت قبول کرنی ہوگی۔جمعیۃ علماء نے جنگ آزادی میں جو قربانیاں دیں، وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ملک کے کونے کونے میں علماء نے تحریک خلافت، عدم تعاون اور سول نافرمانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جیلیں بھری گئیں، دار و رسن کے مراحل طے کیے گئے اور مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔اس کے مقابلے میں آر ایس ایس نے آزادی کی تحریک سے عملاً کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ ان کی سرگرمیاں زیادہ تر ہندوؤں کو عسکری تربیت دینے، ان کے اندر اقلیتی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور ایک منظم فرقہ پرست ڈھانچہ تیار کرنے پر مرکوز رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد بھی آر ایس ایس پر کئی بار پابندیاں لگیں، کیونکہ گاندھی جی کے قتل سے ان کے نظریات کا براہ راست تعلق تھا۔آزادی کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے سیاست سے خود کو بڑی حد تک الگ کر لیا اور زیادہ تر قومی یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے تعلیم، رفاہی خدمات اور مذہبی رہنمائی کو اپنا میدان بنایا۔ ان کی پالیسی یہ رہی کہ آزادی کے بعد اب ملک کو تعمیری کاموں کی ضرورت ہے، اس لیے تصادم یا محاذ آرائی کے بجائے مثبت کردار ادا کیا جائے۔آر ایس ایس نے آزادی کے بعد اپنے سیاسی بازو جن سنگھ اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے کیڈر کو اتنا مضبوط بنایا کہ آج وہ حکومت، انتظامیہ، میڈیا، تعلیمی اداروں اور عدلیہ تک میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ ان کا "ہندو راشٹر” کا خواب اب کھلے عام سیاسی بیانیہ بن چکا ہے اور قانون سازی سے لے کر عوامی زندگی تک ہر جگہ اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔جمعیۃ علماء کی فکری بنیاد وحدتِ انسانی، بقائے باہمی اور مذہبی آزادی پر ہے۔ وہ اسلام کی اصل تعلیمات یعنی عدل، امن اور رواداری کو سامنے رکھ کر قومی زندگی میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہندوستان صرف ہندوؤں کا نہیں بلکہ ہر مذہب اور ہر زبان بولنے والے انسانوں کا ملک ہے۔آر ایس ایس کا نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ہندوستان کو "ہندو قوم” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حیثیت محض "برداشت کیے جانے والے گروہ” کی ہے۔ ان کے سیاسی نظریات میں کثرت میں وحدت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اکثریت کی بالادستی ہی اصل اصول ہے۔آج جب آر ایس ایس اپنے سو سال مکمل کر رہی ہے تو وہ ملک کے ہر شعبے پر قابض دکھائی دیتی ہے۔ حکومت ان کے ہاتھ میں ہے، تعلیمی نصاب ان کے نظریات کے مطابق بدلا جا رہا ہے، عدلیہ پر دباؤ ہے، میڈیا بڑی حد تک ان کے کنٹرول میں ہے، اور عوام کے ذہنوں میں "ہندو راشٹر” کا بیج بویا جا رہا ہے۔اس کے برعکس جمعیۃ علماء سو سال مکمل کرنے کے باوجود کمزور اور پس منظر میں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے پاس کوئی سیاسی قوت نہیں، عوامی تحریک کی طاقت نہیں اور نہ ہی حکومت پر اثر ڈالنے کا وہ طریقہ موجود ہے جو آر ایس ایس کے پاس ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے آزادی کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔جمعیۃ علماء ہند اور آر ایس ایس کی سو سالہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نظریات اگر مسلسل جدوجہد، منظم ڈھانچے اور سیاسی عمل کے ساتھ جڑے ہوں تو وہ معاشرے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں، چاہے وہ نظریات کتنے ہی متنازع کیوں نہ ہوں۔ آر ایس ایس نے اپنے ایجنڈے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور آج وہ اپنے خواب کے قریب ہے۔ دوسری طرف جمعیۃ علماء نے قربانیاں دے کر آزادی دلائی مگر بعد میں اپنی طاقت کو قائم نہ رکھ سکی۔یہ موازنہ ہمیں اس سوال پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا محض نیک نیتی اور قربانی کافی ہے، یا پھر اس کے ساتھ ساتھ منظم حکمت عملی، ادارہ جاتی ڈھانچہ اور سیاسی شعور بھی ضروری ہیں؟ ہندوستان کے مستقبل کا دار و مدار اسی سوال کے جواب پر ہے۔

ٹیگ: IndiaJamiat UlamapoliticsrelationsreligionRssstatementsآر ایس ایسبحثبیاناتتعلقاتجمعیۃ علماءسیاستمذہب

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN