ممبئی :(ایجنسی)
کنگنا رنوت نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 1947 میں ملک کو آزادی نہیں بلکہ بھیک ملی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہملک کو حقیقی آزادی 2014 میں ملی تھی۔ کنگنا رنوت کا یہ بیان پدم شری ملنے کے بعد آیا ہے۔ وہ اپنے بیان کی وجہ سے لوگوں کے نشانے پر آگئی تھیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے ان کا پتلا جلایا وہیں کچھ لوگوں نے ان سے پدم شری واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ اب مشہور مصنف جاوید اختر نے بھی کنگنا رنوت کے بیان پر ٹوئٹ کیا ہے۔
جاوید اختر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کنگنا رنوت کے’ بھیک میں آزادی‘ والے بیان پر طنز کسا ہے ۔ مشہور مصنف نے اداکارہ پر نشانہ سادھتے ہوئے لکھا :’ ان کی بات کو پوری طرح سے سمجھی میں آتی ہے ۔ جن کا تحریک آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں وہ برا کیوں محسوس کریں گے اگر کچھ لوگ اس آزادی کو ’ بھیک ‘ بھی قرار دیں۔‘‘
بتا دیں کہ کانگریس نے کنگنا رنوت کے بیان کی جہاں ایک طرف سخت مخالفت کی تھی،تو وہیں بی جے پی نے ان کی حمایت نہیں کی تھی۔ بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے ایک تقریب کے دوران کنگنا رنوت کے ‘’ بھیک میں آزادی‘ والے بیان سے اختلاف کیا ہے۔ حالانکہ جب ان سے سوال کیاگیا کہ کیا پدم شری واپس لیا جائے گا تو وہ ’ اظہار رائے کی آزادی‘ کا حوالہ دینے لگے تھے۔
ساتھ ہی کنگنا رنوت نے بھی اپنے بیان کا دفاع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حملے کی زد میں آنے کے بعد کنگنا رنوت نے انسٹاگرام اسٹوری پر بیان کا دفاع کیا اور لکھا کہ اگر کوئی ان کے سوالوں کا جواب دے گا تو وہ پدم شری واپس کر دیں گی۔ اس دوران کنگنا رنوت نے مہاتما گاندھی کو بھی نشانہ بنایا۔
کنگنا رنوت نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’آزادی کی پہلی جنگ 1857 میں سبھاش چندر بوس، رانی لکشمی بائی اور ویر ساورکر جی کی قربانیوں سے ہوئی تھی۔ لیکن 1947 میں کیا جنگ ہوئی، مجھے نہیں معلوم۔ اگر کوئی بتا سکتا ہے تو میں پدم شری واپس کر دوں گی اور معافی مانگوں گی۔ بتا دیں کہ کنگنا رنوت کے ان بیانات پر بی جے پی ایم ایل اے کشور کمار منا نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔











